ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مکروہ بھارتی منصوبے ناکام، منہ کی کھانا پڑ گئی

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہاہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر بھارت کی جانب سے جاسوسی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا چکا ہے ٗتازہ مثال پاکستان کی جانب سے بھارتی ڈرون کو تباہ کرنا اور بحری آبدوز کو پیچھے دھکیلنا ہے ٗپاکستان کو کمزور کرنے کیلئے بھارت دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے ٗ

اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سمیت خطے کے ممالک کو بھارت کے جارحانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے۔ ایک انٹرویو میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر بھارت کی جانب سے جاسوسی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنادیا ہے جس کی تازہ مثال پاکستان کی جانب سے بھارتی ڈرون کو تباہ کرنا اور بحری آبدوز کو پیچھے دھکیلنا ہے۔نفیس ذکریا نے کہاکہ بھارت پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے اورافغانستان کی زمین کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے ٗپاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بھی بھارت دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی کے حوالے

سے نفیس ذکریا نے کہاکہ بھارت کی جانب سے سزفائر خلاف ورزیوں کے کئی مقاصد ہیں، اس کا ایک مقصد بھارتی حکومت پر اندرونی سیاسی دباؤ پر پردہ ڈالنا بھی ہے ٗبھارت کا پاکستان کے خلاف غلط بیان بازی کرنے کا مقصد اسے بدنام کرنا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت کشمیری عوام کی جدوجہد کو دہشت گردی قرار دے کر کشمیر کی تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم بھارتی حکومت دنیا کے سامنے حقائق چھپانے میں ناکام ہو رہی ہے۔نفیس ذکریا کے مطابق بھارت کی جانب سے سیزفائر کی حالیہ خلاف ورزیوں کا ایک مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سے عالمی توجہ ہٹانا بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سمیت خطے کے ممالک کو بھارت کے جارحانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزیوں اور جارحیت کے معاملات کو اقوام متحدہ میں اٹھائیگا ٗ پاکستان سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو اس بات پر قائل کرے گا کہ بھارت انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…