اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

آئین کے بنیادی خدوخال کا جائزہ لیتے ہوئے ان چیزوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ محب وطن قوتیں بھی بھی آپ کے اختیارات کی قائل ہیں اور یہ چاہتی ہیں کہ یہ اختیار آپ کے پاس ہے اور رہے گا ۔ آپ ابتدائی دنوں سے کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ آئین کو بچانے کے لئے ہے اور یہ اس کا اختیار ہے کہ وہ آئژین کے بچائے ۔ مسلم لیگ کونسل نے اکثریت حاصل کی جبکہ دوسری جانب مولانا بھاشانی نے اکثریت حاصل کی ایک تو مشرقی پاکستان میں سانحہ ہوا اور ہزاروں افراد مر گئے ۔ 7 دسمبر 1977 کو انتخابات روک دیئے گئے ۔ محمد علی قصوری نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور انتخابات میں حصہ لیا ۔ 38 سے 40 نشستیں حاصل کیں اس تاخیر نے لوگوں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ۔ عوامی لیگ نے 171 نشستیں 173 میں سے حاصل کر لیں اس کے بعد سے انتخابات بنگلہ دیش کی پراپرٹی بن گئے اور مجیب الرحمان نے تقریر بھی کی تھی ۔صرف دو افراد الگ سے مختب ہوئے ۔ 15 سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں شرکت کی ۔ 88 نشستیں پیپلزپارٹی ، 10 سیٹیں نیشنل عوامی پارٹی کو ملیں ۔ پیپلزپارٹی کا حکومت کا حق تھا مگر ولی خان نے اس کو متنازعہ کیا ۔ پیپلزپارٹی نے سندھ سے 22 سیٹیں لیں ۔ بلوچستان سے کوئی سیٹ حاصل نہ کرسکی جس پر معاملات خراب ہوئے جبکہ نیشنل عوامی پارٹی نے جے یو آئی سے اتحاد کیا ۔ جنوری 1971 میں پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے ڈھاکہ جانا کا فیصلہ کیا اور مل کر فیصلہ کرنے کے لئے منظوری دی ۔ جی ایم سید کی ضمانت ضبط ہوئی ۔ (پنجاب کو بھٹو کی پاور قرار دیا گیا ۔ پنجاب کے پاس سوائے اس کے کوئی اور چارہ نہ تھا کہ وہ مجیب الرحمان کے 6 نکات کو تسلیم کر لیا جائے) ۔ یہ مجیب الرحمان کا مینڈیٹ نہیں تھا ۔ عوامی لیگ سے 7 افراد نے مذاکرات کئے ان میں میں بھی شامل تھا ۔ (مجیب الرحمان کے گھر پہلی میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ۔ اس نے ہمیں سندھ اور پنجاب ، بلوچستان کے رہنما کے طور پر قرار دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…