کا اختیار دیا گیا ہے یہ تمام آرٹیکلز براہ راست متاثر ہوئے ہیں ا ور 21 ویں ترمیم ان سے براہ راست متصادم ہے ۔ اعلی عدلیہ کے اختیارات پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 21 ویں ترمیم سنجیدگی سے ڈسٹرب اور ختم کرنے کے لئے ہے جو ڈھانچہ اور سکیم 5 ایریاز کے لئے بنائی گئی تھی ۔ آئین کے مطابق اختیارات کی تقسیم ، 2 ۔ انتظامیہ سے عدلیہ کی علیحدگی ، 3۔ آزاد عدلیہ ریاست کا ستون ہے ۔4 ۔ انصاف تک رسائی شہریوں کی بنیادی حقوق کے واسطے ، اور پانچویں میں شفاف ٹرائل جس میں شہریوں کو ضمانت دی گئی ہے یہ آئینی ڈھانچہ کے حصہ ہیں جن کو 21 ویں ترمیم نے بے حد متاثڑ کی اہے ۔ فوجی عدالتوں کا قیام پاکستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے پاکستان میں فوجی عدالتوں کا قیام مسلسل ہوتا رہا ہے آمروں اور جمہوری قوتوں کے وقت بھی فوجی عدالتوں کو متعارف کرایا گیا ۔ 1953 میں پہلی بار یہ عدالتیں متعارف کرائی گئیں جبکہ احمدیوں کے خلاف لاہور میں تحریک چلی تھی دوسرا موقع اکتوبر 1958 میں آیا جب مارشل لاءلگایا گیا اور یہ عدالتیں 4 سال تک رہیں جب مارشل لاءختم ہوا اور یہ عدالتیں جون 1962 تک کام کرتی رہیں تیسرا موقع 25 مارچ 1969 ہے جب یحیی خان نے مارشل لاء لگایا اور یہ موثر طور پر 1971 دسمبرتک عدالتیں کام کرتی رہیں اور سویلین مارشل لاء 1972 تک جاری رہا ۔ مشرقی پاکستان میں اس کا کردار زیادہ رہا چوتھا موقع اپریل 1977 کو منی مارشل لاءلگایا گیا اور 3 شہر اس کی زد میں آئے جن میں لاہور ،کراچی اور اسلام آباد شامل تھے ۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ کیا یہ مارشل لاء تھا یا سویلین اداروں کی مدد کے لئے فوج کو بلایا گیا تھا ۔ حامد خان نے کہا کہ اس کو چیلنج کیا گیا تھا درویش مہد بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں سابق چیف جسٹس اسلم ریاض نے یہ عدالتیں ختم کر دی تھیں ۔5 جولائی 1977 کو مارشل لاءلگایا گیا یہ مارشل لاء لمبے عرصے تک جاری رہا اور 8 سال جاری رہا ۔ فوجی عدالتیں 5 جولائی 1977 سے 1985 تک جاری رہا اور بڑی تعداد میں سیاسی ورکروں ، میڈیا کے لوگوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا دی گئی ۔ لمبے عرصے کے لئے جیل بھیجا گیا ۔ اس سے اگلی بار جب فوجی عدالتیں بنائی گئیں وہ 1998 میں فوجی عدالتیں بنائی گئیں پاکستان مسلح افواج نے سول اداروں کی مدد کا آرڈیننس جاری کیا گیا ۔ 20 نومبر 1998 کو یہ آرڈیننس متعارف کرایا گیا ۔ یہ سندھ کے علاقوں میں استعمال کیا گیا ۔ آرٹیکل 245 کی بھی مدد لی گئی اس قانون کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تین قوانین کا استعمال کیا گیا جس میں آرمی ایکٹ ، ایئرفورس ایکٹ اور نیوی آرڈینس شامل ہیں
ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
بجٹ سے پہلے بڑا دباؤ، سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ اور پنشن بحالی کا مطالبہ
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری



















































