اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

آ ئین میں تر میم کر کے سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے قائم کرنے کی اجازت دی گئی، سپریم کورٹ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اے کے ڈوگر نے کہا کہ آئین کے تمام آرٹیکلز مساوی حیثیت رکھتے ہیں جب آئین بنتا ہے تو آئین بنانے کا اختیار جس کو پرائمری اور لامحدود اختیار کا نام دیا گیا آئین بننے کے بعد وہ اختیار ختم ہو گیا عام قانون بنانے اور آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار مختلف چیزیں ہیں اعلیٰ حقوق اور ادنیٰ حقوق کی بھی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اعلیٰ حقوق عدلیہ کی آزادی کے قریب ہے انہوں نے 2005ءکے سپریم کورٹ فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ آئینی ترمیم کو سیاسی سوال قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کا اصل بھی پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے ہی دیا جائے گا۔ یہ غلط ہے کہ 3 دہائیو ں سے آئین اس طرح سے چلاتا رہا ہے۔ آئینی پروویژنز اور ترمیمی پروویژنز میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔ آئینی پروویژنز کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا وہ عوامی خواہشات کے تحت بنے ہیں جن کو ترمیم کے ساتھ متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعض آرٹیکلز میں نہ صرف میں خود متاثر ہوں بلکہ اس ملک کے لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں انہوں نے آرٹیکل 17(4) کا تذکرہ کیا سب آرٹیکل 4 کو ختم کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب آرٹیکل 4 اصل آئین کا حصہ تھا اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت پنی جماعت کے اندر انٹرا پارتی انتخابات کرائے گی اور رہنماﺅں کے درمیان انتخابات کرائے گی جس میں آفس بیررز اور پارتی رہنما بھی شامل ہوں گے۔ یہ بعد میں شامل کیا گیا اور ایل ایف او کا حصہ تھا۔ ہمارے ملک کے سیاستدانوں کے حوالے سے گزارشات کروں گا کہ لوگوں کے ان کے بارے میں خیالات اچھے نہیں ہیں علامہ اقبال بھی ان سے مطمئن نہیں تھے اور جملہ کہا تھا جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاستدان۔ شیطان نے خدا سے کہا کہ میری اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ میرے جانشین سیاستدان آ چکے ہیں۔ جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا کہ آپ ایک طرف تو سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ انہیں شیطان قرار دے رہے ہیں۔ اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ یہ جملہ صرف مجھے کاﺅنٹر کرنے کے لئے آپ نے بولا ہے سب آرتیکل ختم کرنا غیر آئینی و غیر قانونی ہے جمہوریت ہمارے ملک کا ایک ستون ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…