اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

آ ئین میں تر میم کر کے سیاسی جماعتوں کو مسلح جتھے قائم کرنے کی اجازت دی گئی، سپریم کورٹ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

فوجی عدالتوں اور دیگر معاملات بارے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو اے کے ڈوگر نے پچھلے روز کے دلائل کا مختصر خاکہ پیش کیا فیصلہ میں کہا گیا آئین کے بنیادی خدوخال کا معاملہ ایک اکیڈمک سوال قرار دیا گیا‘ ہم اکیڈمک کام نہیں کر رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کے مستقبل کے اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو فاﺅنڈیشن کے خلاف ہو۔ قانون سازی پاور اور آئینی سازی پاور میں فرق ہے‘ قانون ساز پاور پارلیمنٹ کو قانون بنانے کی اجازت دیتا ہے جبکہ آئین سازی پاور آئین کے تحت کوئی ترمیم کرتا ہے انہوں نے وکلاءمحاذ کیس کا بھی حوالہ دیا۔ یہ طے شدہ ہے۔ آئین کی ترمیم کو آئین ساز پاور قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین میں اس طرح سے الفاظ کا استعمال نہیں ہوا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ فضل کریم سابق جج نے کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے بھارتی آئین بارے بات کی ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اب جبکہ دونوں میں فرق کر رہے ہیں ہمارا 3 تین طرح کا آئین ہے ایک بھٹو نے بنایا ایک آئین ساز اسمبلی نے بنایا تو اب یہ پاور کہاں سے فرق کریں گے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آپ کے منہ میں گھی شکر اور منہ میں خاک‘ آپ پھر ایک اور مارشل لاءکی بات کر رہے ہیں جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اگر کوئی اور آ گیا اور اس نے ہم کو مار کر نیا کچھ بنا دیا تو کیا ہو گا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ اس ملک میں آئین و قانون بھی اسلامی حیثیت میں برقرار رہے گا۔ اس طرح کی کوشش اب نہیں ہو سکتی جسٹس سرمد جلال نے کہا کہ 56‘ 62 کے بعد 73 کے آئین کی کیا ضرورت تھی اگر 1973 کا آئین ہی بہتر تھا تو پہلے دونوں آئین کو غلط قرار دینا ہو گا۔ اگر کوئی آ گیا انہوں نے سارا کا سارا تبدیل کر دیا تو پھر دلائل رہ جائیں گے۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ یہ سب نئے آنے والے پر ہے کہ وہ کیا کرے گا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…