پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی نہیں حکومت‘ انتظامیہ اور سول اداروں کی ناکامی ہے،سپریم کورٹ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

دہشت گردی کی لعنت ایک غیر اعلانیہ جنگ ہے اس جنگ کے بہت زیادہ اثرات ہیں فرض کریں کہ میں سوچتا ہوں کہ اگر میں تمام سیاسی جماعتوں کے فیصلے کو رد کر دیتا ہوں تو مزید 10 سے 20 ہزار لوگوں کو اور نقصان ہو گا۔ سویلین حکام اتنے مضبوط نہیں ہیں سمجھ لیں کہ سارا قصور حکومتوں کا ہے مگر دہشت گردوں کے حوالے اس ملک کو نہیں کیا جا سکتا یہ آپ کی خصوصی توجہ کا طالب ہے۔ یہ ملک اپنے وجود کے خطرات سے دو چار ہے۔ علاقائی مسائل بھی ہیں جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالتی نظام کی وجہ سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ عدلیہ اس کا ساتھ دے رہی ہے عدالتوں کی ناکامی کی وجہ سے ہے یہ لاءاینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے جس سے نمٹنا انتظامیہ کا کام ہے تیز ترین ٹرائل کی ضرورت ہے تمام تر دہشت گردی کے مقدمات کے التواءکی وجہ شہادتوں میں تاخیر ہے اور استغاثہ کام نہیں کر رہا ہوں 8 ہزار لوگوں کو ڈیتھ سیل میں کون لایا ہم نہیں لائے ججز پر آپ الزام نہ لگائیں یہ سب ہمارا کام نہیں ہے حکومت اپنی کمزوریاں ہم پر نہ ڈالے۔ خالد انور نے کہا کہ یہ مانتا ہوں انتظامیہ کی ناکامی ہے۔ سول نظام ناکام ہو چکا ہے آپ کی سب باتیں درست ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری انتظامیہ اس سارے معاملے کو ختم نہیں کر سکتی ججز کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا‘ اگر میں انسداد دہشت گردی جج ہوتا تو مجھے بھی دھمکیاں ہوتیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس کے باوجود بھی ہم فیصلے دے رہے ہیں اور ملزمان کو سزائے موت دے رہے ہیں۔ ایک طرف انتظامیہ ہے تو دوسری طرف عوام کے بنیادی آئینی حقوق ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اگر شہریوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے ہیں تو اس میں شہریوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جسٹس جواد خوانجہ نے کہا کہ یہاں پر ہمیں تاریخ کو نہیں بھولنا چاہئے۔ یہاں آئین کے سب سے زیادہ مخالف ہیں تین چوتھائی اکثریت نہیں مل سکتی۔ خالد انور نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ پر تنقید نہیں کر رہے ہیں کراچی میں آرمی کام کر رہی ہے اس سے میرے حقوق متاثر ہوتے ہیں مگر لوگ وہاں خوش ہیں کہ ان کو تحفظ مل رہا ہے اور اس کی وجہ فوج ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…