منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی نہیں حکومت‘ انتظامیہ اور سول اداروں کی ناکامی ہے،سپریم کورٹ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ اس کو روکنے کیلئے موثر قانون سازی کی ضرورت تھی اور دہشت گردون کو سخت ترین سزائیں دینا وقت کا اہم تقاضا تھا یا تو اپنے ملک کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے یا پھر ان کے خاتمے کے اقدامات کئے جاتے اس لئے 21ویں ترمیم منظور کی گئی۔ اگر کوئی اور ٹربیونل بھی 21 ویں ترمیم کے تحت وجود میں آتا ہے تو بھی اس کے دائرہ کار کو آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی مقدمات کا فیصلہ 7 روز میں کیا جاتا ہے۔ ایلیٹ فورم بھی 7 روز میں اس کا فیصلہ کرے گا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ ان اپیلوں کے فیصلوں کی مانیٹرنگ کریں گے اور جلد سے جلد نمٹانے کے اقدامات کا خیال رکھیں گے۔ تمام تر گواہوں اور دیگر افسران کا تحفظ کیا جائے گا۔ دہشت گردی عدالتوں اور ہائی کورٹ ججز کو دھمکیاں دی جاتی ہیں ان کی زندگیاں رسک پر ہوتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہادتیں نہیں آتیں اور ملزمان رہا ہو جاتے ہیں عام حالات میں دہشت گردوں کو سزا دینا بہت مشکل ہے یہ کڑوی دوائی ضرور ہے مگر ہمیں پینا پڑے گی کیونکہ ہم گواہوں‘ ججز سمیت عملے کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے نہ ہی ججز اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں اس لئے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے۔ عدلیہ کے متوازی کوئی اور ادارہ نہیں بنایا جا سکتا اس لئے ان عدالتوں کا قیام آرمی ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔ الیکشن ٹربیونل بھی الگ سے دیئے گئے ہیں جن کو 12ویں ترمیم میں واضح کر دیا گیا ہے۔ یہ ٹربیونلز 3 سال کے لئے بنائے جا سکتے ہیں۔ ٓئینی ترمیم میں بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے اور ان کو الگ کر دیا گیا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…