پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

این آ ر او کیس میں سپریم کورٹ کے قانونی نکات غیر متعلقہ تھے،جسٹس ثاقب نثار

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے ہاں کے بنیادی حقوق قوانین کے تحت دیئے گئے ہیں جبکہ بھارت میں یہ حقوق حقیقت میں دیئے گئے ہیں۔ خالد انور نے کہا کہ اگر کوئی قانون بدنیتی پر مبنی ہو تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ صرف ایک پہلو جس کے تحت سپریم کورٹ کے اختیار کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل کو کہنا پڑا کہ عدالت اس ڈیکلریشن کو کالعدم قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے کیونکہ آئین سازی کی نگرانی کرتی ہے۔ پاکستان میں 5 منٹ میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ڈیکلریشن نہیں بنتا۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ باتیں کیا ہو رہی ہیں اور فیصلہ کیا ہو رہا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے 31 (C) مکمل طور پر اڑا دیا کیونکہ اس سے عدلیہ کے اختیارات پر قدغن لگتی تھی۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام بارے 21 ویں ترمیم کے تحت ہم بنیادی آئینی ڈھانچے کا جائزہ لے سکتے ہیں خالد انور نے کہا کہ اس حوالے سے وہ بعد میں بات کریں گے جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کیسا ولندا بھارتی کیس میں عدالت نے اس طرح کے کسی اور آئینی ترمیم سے روکنے کے لئے فیصلہ جاری کیا تھا۔ 21 ویں ترمیم میں بھی کسی اور ادارے کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس اقدام کو بذات خود آئین نے کوئی تحفظ نہیں دیا ہے۔ آئین کے تحت تحفظ یا آئین کے از خود تحفظ کا جائزہ لینا ہے۔ 21 ویں ترمیم میں قانون کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ 18 ویں ترمیم کا وجود ہی آئین سے ہے۔ خالد انور نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کیسا ولندا کیس میں کہا کہ 31 (c) بنیادی آئینی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے یا نہیں ہم پھر بھی اس کو عدلیہ کی آزادی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیتے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ہم بھارتی آئین کا سہارا کیوں لے رہے ہیں جس کا ہمارے آئین سے کوئی تعلق نہیں ہے جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ این آر او کے مقدمے میں ہم نے بھی فیصلہ دے دیا اور غیر ضروری طور پر ساڑھے 3 سو صفحے لکھ ڈالے جبکہ حکومت نے تو از خود ہی تسلیم کر لیا تھا کہ یہ این ار آو غلط ہے اور ایسے ایسے قانونی نکات اٹھا دیئے جو غیر متعلقہ تھے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج بدھ تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…