ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف ابھی طویل سفر طے کرنا ہے ، امریکہ

datetime 24  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن پاکستان کو شدت پسندی کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرنے میں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ افغانستان، پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی نائب نمائندہ لوریل ملر نے بر طا نو ی نشریا تی ادارے سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے کہ افغان طالبان کےساتھ مذاکرات کی کوششوں میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل دباو¿ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں کافی وقت لگے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے لیکن کچھ معاملات پر خاص طور پر حقّانی نیٹ ورک کے بارے میں سوالیہ نشان برقرار ہیں۔ان کا کہنا تھا: ’حقانی نیٹ ورک کا معاملہ ہم اب بھی پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں اس پر خاصی تشویش ہے۔ حقانی نیٹ ورک امریکہ اور افغانستان دونوں ہی کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ’پاکستان کی زمین سے ہر قسم کی شدت پسندی کو اکھاڑ پھینکنا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت بھی اس بات کو قبول کرے گی کہ انہیں ابھی اس معاملے پر بہت کام کرنا ہے۔‘لوریل ملر کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں بھی امریکہ صدر غنی کے ساتھ ہے لیکن اگر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو اس میں تین شرائط اہم ہوں گی۔پہلی کہ طالبان بین الاقوامی دہشت گردی سے اپنا ناطہ توڑ لیں، دوئم وہ افغانستان میں تشدد پھیلانا بند کر دیں اور تیسری یہ کہ افغانستان کے آئین میں خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے جو قانون بنے ہیں ان پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو بات چیت کے لیے راضی کرنے کی کوششوں میں چین کی پہل کا بھی امریکہ مکمل طور سے ساتھ دے رہا ہے اور بھارت بھی افغانستان کے استحکام کے لیے ہونے والی ہر کوشش کے حق میں ہے۔اس دورے پر صدر غنی کی کوشش ہوگی کہ وہ اوباما انتظامیہ کو افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کی حد کو آگے بڑھانے کے لیے راضی کر سکیں۔اس معاملے پر بات چیت جاری ہے لیکن لوریل ملر کا کہنا ہے کہ اس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور ممکن ہے کہ اگلے ایک دو دنوں میں اس پر کوئی اہم اعلان ہو جائے۔ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ ابھی افغانستان کو مدد جاری رکھنے پر یہاں ایک رائے ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں میں امداد میں کمی ہوئی ہے اور جیسے جیسے افغانستان کی معیشت اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہوتی ہے، اس میں مستقبل میں بتدریج کٹوتی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…