امداد کے منتظر مزید دو ادارے

25  اپریل‬‮  2023

’’مجھے گفٹ نہیںچاہیے‘ کپڑے بھی نہ دیں‘ مجھے تو بس’’سجادہ‘‘دے دیں‘ یہ مطالبہ حجاب میں ملبوس چھوٹی سی بچی کر رہی تھی‘ اس نے ہمیں گرم شال بھی واپس کر دی‘ مہمت نے بتایا یہ بچی کہہ رہی ہے مجھے جائے نماز چاہیے‘میں نے کئی دنوںسے نماز نہیںپڑھی‘ میںنے فوراً اپنے بیگ سے بچی کو سفری جائے نماز نکال کر دے دی‘ اس نے اس کو اپنے ہاتھوں میںدبوچ لیا اور اس کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے‘

اس نے بڑے پیارے انداز میںہمیں چوک تشکر یعنی بہت شکریہ کہا‘‘ یہ تحریر مجھے کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے بانی اور سربراہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے بھجوائی‘ ان کا کہنا تھاکسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم فروری کے مہینے میں ترکیہ کے زلزلہ زدہ علاقوںمیں موجود تھی‘ 9 بجے جہاز عدیمان ایئر پورٹ پر اترا‘ جنوبی ترکیہ کے اس شہر میں زلزلہ کی تباہ کاریاں واضح نظر آ رہی تھیں‘ ہمیں ہوٹل والوں نے صبح ناشتے کے پیکٹ دیے تھے‘میں نے ایئر پورٹ پر ایک بچے کو پیکٹ دینے کی کوشش کی تو وہ ماں کی طرف دیکھنے لگا‘ ماںنے اثبات میں سرہلایا تو اس نے ’’ تشکر‘‘ کہہ کر لے لیا‘ استنبول سے آنے والا ناشتہ عدیمان کے بچے کے نصیب میںتھا‘ عدیمان ایئر پورٹ پر دو گھنٹے سے زیادہ رکنا پڑا کیوںکہ زلزلہ زدہ علاقوں میں جانے کے لیے گاڑیاں نہیںمل رہی تھیں‘بڑی مشکل سے گاڑیاںملیں توہم لوگ ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے۔ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے مزید لکھا ’’ہم ایئر پورٹ سے عدیمان کے علاقے گول باسی(Gol Basi) کے لئے روانہ ہوئے‘ ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد گول باسی پہنچ گئے‘ شہر میںداخل ہوتے ہی زلزلہ سے تباہی اور بربادی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے‘ ہر طرف تباہی اور بربادی تھی‘ بڑے بڑے ٹاورز‘ پلازے‘ بلند و بالا عمارتیں اور گھر زمین بوس تھے‘ چاروں طرف مٹی‘ کنکریٹ اور سریے کے ڈھیر لگے تھے‘

چھ فروری کے زلزلہ میںگول باسی سارے کا سارا تباہ و برباد ہو گیا تھا‘ میں نے ایک ایسی دس منزلہ عمارت بھی دیکھی جس کی بنیادیں زمین سے نکل گئی تھیں‘ پوری عمارت ایک طرف جھک کر دوسری عمارت کے سہارے اپنی جگہ سے سرک گئی‘ اللہ کی قدرت تھی یہ اپنی بنیادوں سمیت ایک طرف جھک گئی ‘ نہ شیشہ ٹوٹا اورنہ پوری عمارت میں کریک آئے‘ مقامی باشندوںنے بتایا عمارت میں رہنے والے تمام لوگ محفوظ رہے‘

کسی کو کوئی زخم نہیں آیا‘ اکثر جگہوں پر عمارتوں کے مکین اپنے اپنے گھروں کے سامنے بیٹھے حیرت سے اپنے گھروں کی طرف دیکھ رہے تھے مگر پر عزم تھے کہ ان شاء اللہ وہ دوبارہ سے اپنے گھروں میںآئیںگے‘ اپنے برباد گھروں کی تعمیر کریںگے‘ صدر طیب اردگان نے عدیمان آ کر اعلان کیا ان شاء اللہ ایک سال میںان تمام شہروںکی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔

ہم اپنے میزبان مہمت کے ساتھ گول باسی کے زلزلہ زدگان کے خیموں تک گئے‘ یمنیٰ نے بچوں کے لیے گفٹ بنائے تھے‘ترکیہ آنے سے پہلے کی رات نرگس اعوان نے خوب صورت چادریں بھجوائی تھیں‘ زلزلہ زدہ افراد گول باسی میں کئی مقامات پر خیموںموجود تھے‘ وہاںجا کر ان سے اظہار ہمدردی کیا‘ بچوں میں گفٹ بانٹنے شروع کیے تو وہ کثیر تعداد میں جمع ہو گئے‘

یمنیٰ‘ حذیفہ نے بڑی محبت سے بچوں میں گفٹ تقسیم کیے‘ عورتوںاور لڑکیوںکو چادریں دیں تو وہ خوش ہو گئیں‘سکارف پہنے ایک بچی کو چادر دی تو اس نے کہا کہ میںکئی دنوں سے نماز نہیں پڑھ سکی‘ مجھے جائے نماز (سجادہ) چاہیے‘ ترکیہ آتے ہوئے بلال مسجد کے مولانا ذوالفقار نے پانچ سفری جائے نمازیں دی تھیں‘ ترکیہ کی بیٹی کو جائے نماز پیش کی تو اس کے آنکھوں میںآنسو آ گئے‘

اس کو دیکھ کر ہماری آنکھیںبھی بھر آئیں‘ بیٹی نے سرجھکا کر بڑی محبت اور عقیدت سے تشکر کہہ کر شکریہ ادا کیا۔ یمنیٰ اور حذیفہ نے ٹینٹوںمیں جا کر مکینوںمیں’’لیرا ‘‘ بھی تقسیم کیے‘وہ جمعہ کا دن تھا‘ میئر کے کنٹینر دفتر کے قریب ایک بڑے خیمے میں عارضی مسجد بنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی بڑا دستر خوان لگا ہوا تھا‘ جمعہ کی نماز ہو چکی تھی‘

ڈاکٹر سعید اختر نے خطبہ دیا اور ہم نے ان کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کی‘ 2005ء کے زلزلہ کی یاد آگئی جب باغ میںایسے ہی ایک دن جمعہ کی نماز ادا کی تھی‘ جمعہ کی نماز کے بعد زلزلہ زدگان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا‘ زلزلہ زدگان کے اس کیمپ میںصبح و شام گول باسی کے باسی کھانا کھانے آتے ہیں‘ ایک طرف گرما گرم روٹیوں کا تنور لگا ہوا تھا‘ گرما گرم چائے بھی ملتی ہے‘

زلزلہ زدگان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا کر بہت اچھا لگا‘ کھانے کے انتظام کے لیے عطیہ بھی دیا‘گول باسی میںاس وقت اگرچہ دھوپ نکل ہوئی تھی مگر آہستہ آہستہ ٹمپریچر کم ہو رہاتھا‘ ٹھنڈی ہوائیں اور سردی ہڈیوںمیں گھستی محسوس ہو رہی تھی‘ سردی سے بدن پر کپکپی طاری تھی‘ تھرمل جیکٹ پہن کر کچھ سکون ملا‘ باہر نکلے تو لوگ ایک جگہ لکڑیاں جلا کر بیٹھے تھے‘ ان کے ساتھ بیٹھ کر گرما گرم چائے نوش کی تو سردی کی حدت کم ہوئی۔

مغرب کی نماز کے بعد ویبل کنٹینر پہنچ گیا‘ الحمد للہ کنٹینر خیریت سے ویبل کے ساتھ گول باسی پہنچ گیا‘ ویبل 22 گھنٹہ سفر کے باوجود ترو تازہ اور ہشاش بشاش تھا‘اے ایف اے ڈی اور بلدیہ کے ارکان جمع ہو گئے۔ فوڈ کے کارٹن کنٹینر سے اتار کر ویئر ہائوس میں رکھوائے گئے‘ بلدیہ کے میئر کا دفتر زلزلہ کی نذر ہو چکا تھا‘ وہ زلزلہ زدگان کے ساتھ ایک کنٹینر میں اپنا دفتر لگائے بیٹھے تھے‘

صبح سے رات گئے تک زلزلہ زدگان کی خدمت میںمصروف رہتے تھے‘ آرام نہیں کرتے تھے‘کہنے لگے جب سب زلزلہ زدگان سیٹل ہو جائیںگے تو آرام کروں گا‘میئر کے دفتر کے ارکان نے کہا‘ ہم ترتیب کے ساتھ فوڈ کے کارٹن زلزلہ زدگان کے خیموں تک پہنچائیںگے‘ یمنیٰ نے زلزلہ زدگان کے لیے ایمر جنسی ادویات کے پیکٹ تیار کروائے تھے‘ وہ بھی میئر کے حوالے کر دیے‘

رات گئے کئی زلزلہ زدگان آ گئے‘ فوڈ کے کارٹن ان کے حوالے کیے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے‘ اے ایف اے ڈی اور بلدیہ گول باسی کے لوگ ایک انگیٹھی کے گرد جمع تھے‘ ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کیں‘ زبان یار ترکی کہ من دانم کے باوجود اشاروں‘کنایوں اور مسکراہٹوں سے تبادلہ خیال کیا‘ نوجوان لڑکوں نے ہمارے ساتھ سیلفیاں بنوائیں‘

بلدیہ کے ارکان خاص کر نوجوان لڑکے ہمارے ساتھ فوٹو اور سیلفیاں بنوا کر خوش ہوتے رہے‘ گول باسی کے مضافات میں پھرتے ہوئے تباہی دیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہوا مگر قربان جائیں ان لوگوںکے جہاں بھی کیمپ میںگئے۔ متاثرین کی خدمت میں حقیر نذرانے پیش کیے‘لوگ بڑی محبت اور اپنائیت سے ملے‘ تشکر کہہ کر چہرے پہ مسکراہٹ کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔ میئر نے ہماری رہائش کا انتظام ایک گھر میںکیا تھا‘

یہ زلزلہ سے متاثرہ گھر تھا‘ گھر کے مکین کسی اور جگہ شفٹ ہو گئے تھے‘ گھر زلزلہ سے سرکا ہوا تھا‘ شروع میں ڈر لگا کیوںکہ زلزلہ زدہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری تھا تاہم اللہ کا نام لے کر آیت الکرسی پڑھ کر چاروں طرف پھونک ماری‘ بچوں پہ دم کیااور لیٹ گئے‘ وہ رات آرام سے گزر گئی۔

یہ کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ترکی کے زلزلہ زدہ علاقے میں خدمت کی معمولی سی کوشش کی روداد تھی‘ ملک میںیا بیرون ملک جب بھی کوئی آفت آتی ہے کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم آفت زدہ علاقوں میں پہنچ کر خدمت اور علاج میں مصروف ہو جاتی ہے‘یہ لوگ تھرپارکر سندھ میں میٹھے پانی کے 1500 کنوئیں کھدوا کر وہاں گرین فام بنواچکے ہیں جن کی وجہ سے وہاں لہلہاتے گرین فارمز پر پنجاب کے کھیتوں کا گمان ہوتا ہے‘

پاکستان میںگزشتہ سال سیلاب کے فوراً بعد کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیموں نے فوری طور پر ریلیف اشیاء کے کئی ٹرک بھجوائے‘ خیمہ بستیاں بنوائیں اور ہزاروں مریضوں کا علاج کیا۔یہ لوگ اب سیلاب زدہ علاقوں میں 1000 گھر تعمیرکر رہے ہیں‘ یہ بھی ایک جینوئن ادارہ ہے‘ آپ کے عطیات یہاں بھی محفوظ رہیں گے‘ آپ درج ذیل اکائونٹ میں اپنی زکوٰۃ اور عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔

آپ کی امداد کا مستحق دوسرا ادارہغوثیہ کالج مظفرگڑھ ہے‘ یہ 12 سال سے مظفرگڑھ میں چوتھی جماعت سے لے کر ایم اے تک 600 سے زائد غریب‘یتیم اور نادار طلباء و طالبات کو تعلیم‘ کتابیں‘یونیفارم‘ تین ٹائم کھانا‘رہائش‘ سٹیشنری اور علاج معالجہ فراہم کر رہا ہے‘یہ وہ طلباء و طالبات ہیں جو اخراجات اور تعلیمی اسباب نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے‘

ادارے میں طلباء و طالبات کے لیے علوم عصریہ کے ساتھ ساتھ حفظ‘ناظرہ اور علوم شریعہ کی کلاسز کا اہتمام بھی ہے‘بچیوں کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ سلائی کڑھائی کے ہنر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے‘اب تک سینکڑوں یتیم و نادار طلباء و طالبات سند فراغت حاصل کر کے مفید زندگی گزار رہے ہیں‘ادارہ 75 رومز پر مشتمل ہے‘طلباء و طالبات کے لیے الگ الگ کیمپس ہیں اور یہ تمام تر سہولیات سے آراستہ ہے‘

کراچی کے ایک بزرگ حاجی عبدالرزاق صاحب اس ادارے کی مکمل سر پرستی کرتے تھے‘ان کے انتقال کے بعد معروف کالم نگار اور سابق سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے مکمل سرپرستی فرمائی‘ان کے انتقال کے بعد ادارے کے مالی حالا ت بہت پیچیدہ ہیں‘فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ادارہ مالی مشکلات کا شکار ہے اور 600 سے زائد یتیم و نادار بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے‘ادارے کے ماہانہ اخراجات جن میں راشن‘تنخواہیں‘بجلی کے بلز وغیرہ شامل ہیں 10 لاکھ روپے سے زائد ہیں‘ مخیر حضرات اپنی زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے اس دارے کی معاونت بھی کر سکتے ہیں۔



کالم



فرح گوگی بھی لے لیں


میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…

ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…

گوہر اعجاز سے سیکھیں

پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…