چند سنجیدہ سوال

  منگل‬‮ 14 دسمبر‬‮ 2021  |  0:01

سیالکوٹ میں 3دسمبر کو سری لنکن پروڈکشن مینیجر پریانتھا کمارا ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوا اور ہجوم نے اس کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی کی‘ لاش کو ڈنڈے‘ اینٹیں اور ٹھڈے بھی مارے گئے اور پٹرول چھڑک کر آگ بھی لگا دی گئی‘ آج اس واقعے کو11دن گزر چکے ہیں لیکن یہ افسوس بن کر آج بھی ہر پاکستانی کی روح میں سلگ رہا ہے‘ ہم سب اندر سے گھائل ہو چکے ہیں‘ پولیس نے واقعے کے بعدکمال کر دیا‘ 124لوگ گرفتار ہوئے‘ ان میں 34 بڑے مجرم ہیں‘ آٹھ مجرموں نے اپنی غلطی بھی مان لی اور یہ مرکزی مجرم بھی ڈکلیئر ہو چکے ہیں‘ یہ مقدمہ عن قریب چلے گا اور سات آٹھ مجرموں کو بہت جلد سزائے موت بھی ہو جائے گی‘ حکومت اس

معاملے میں بہت کلیئر ہے‘ یہ چاہتی ہے یہ کیس جلد سے جلد وائینڈ اپ ہو جائے تاکہ دنیا میں ثابت کیاجا سکے پاکستان مکمل‘ آزاد اور قانون پسند ملک ہے‘ یہ بنانا سٹیٹ نہیں ‘ یہ پیش رفت قابل تحسین ہے‘ ہم جتنا جلد بنانا سٹیٹ کے ٹیگ سے نکل جائیں گے ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا لیکن یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور میں ریاست سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کرجواب دیں‘ پریانتھا کمارا کو قتل کرنے والے لوگ عام فیکٹری مزدور تھے‘ یہ کسی مذہبی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے‘ یہ بھڑک اٹھے‘ ہجوم کی نفسیات غالب آئی اور یہ افسوس ناک‘ اندوہناک واقعے کے ذمہ دار بن گئے‘ یہ اب اپنے کیے کی سزا بھی پائیں گے اور انہیں یہ سزا ملنی بھی چاہیے لیکن سوال یہ ہے ’’مجرم اگر عام غریب مزدور نہ ہوتے اور ان کا تعلق کسی مذہبی سیاسی جماعت کے ساتھ ہوتا تو کیا ریاست کا ردعمل اس وقت بھی یہی ہوتا‘ کیا یہ انہیں بھی اسی طرح گرفتار کرتی‘ کیا ان کے خلاف بھی اسی طرح مقدمے بنتے اور کیا انہیں بھی اسی طرح گرفتار کر کے جلد سے جلد کیفرکردار تک پہنچایا جاتا یا پھر ان کی گرفتاری کے بعد جی ٹی روڈ پر دھرنا ہوتا‘ پولیس کے سات آٹھ لوگوں کو بھی سری لنکن پریانتھا کمارا کی طرح قتل کر کے کھیتوں میں پھینک دیا جاتا اور ریاست نہ صرف ان کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر لیتی بلکہ انہیں فورتھ شیڈول سے نکال کر انہیں سیاسی جماعت بھی مان لیا جاتااور ریاست اپنے تمام الزامات بھی واپس لے لیتی؟‘‘ آپ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اور آپ اگر جواب دے ہی رہے ہیں تو میں یہ بھی پوچھ لیتا ہوں‘ یہ124 لوگ آج حوالات میں ہیں تو کیا اس کی وجہ یہ نہیں کسی سیاسی اور مذہبی جماعت نے ابھی تک انہیں اون نہیں کیا‘ یہ اگر انہیں ’’عاشق رسولؐ‘‘ مان لیتی تو کیا پھر بھی ان کے ساتھ یہی سلوک ہوتا؟ کیا پھر بھی ریاست میں انہیں گرفتار کرنے کی ہمت ہوتی؟ آپ یقین کریں یہ سوال پاکستان کا مستقبل ہیں‘ ہم نے جس دن ان سوالوں کا جواب تلاش کر لیا‘ یہ ملک اس دن اپنے قدموں پر کھڑاہو جائے گا‘ ملک کی اصل حالت یہ ہے فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال کی دو کرسچین نرسز پر9 اپریل 2021ء کو توہین کا الزام لگا‘ ہجوم نے انہیں گھیر لیا‘ ہسپتال کی انتظامیہ نے بڑی مشکل سے ان کی جان بچا کر پولیس کے حوالے کیا‘ یہ اب جیل میں الگ تھلگ کمرے میں بند ہیں اور8ماہ میں کوئی جج ان کا کیس سننے کے لیے تیار نہیں ہوا‘ انہیں وکیل تک نہیں مل رہا اور پولیس کا کوئی اہلکار ان کا چالان بھی تیار کرنے کے لیے راضی نہیں لہٰذا آپ پھرخود سوچیے خوف کے اس عالم میں یہ ریاست کیسے چلے گی؟۔میں اس سوال کے ساتھ ساتھ مدت سے چند اور سوال بھی پوچھنا چاہتا ہوں‘ میرے یہ سوال علماء کرام سے ہیںاور میں یہ صرف اور صرف اپنے نالج کے لیے پوچھنا چاہتا ہوں‘ کیانبی اکرمؐ نے واقعی کسی ریاست کی بنیاد رکھی تھی؟ کیا رسول اللہ ﷺ کواللہ تعالیٰ نے صرف آخری نبیؐ بنا کر بھیجا تھا یا پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمران بھی بنایا تھا اور یہ اگر خاتم النبیینؐ کے ساتھ ساتھ حکمران بھی تھے تو کیا ہم قرآن اور سنت سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں؟ کیا نبی اکرمؐ کی حیات طیبہ میں ریاست مدینہ کا وجود تھا؟اور اگر نہیں تو پھر ہماری ریاست مدینہ سے کیا مراد ہے؟ہم کہیں خلفاء راشدین کی ریاست کو ریاست مدینہ تو نہیں کہہ رہے؟اگر ہماری مراد وہ ہے تو اس ریاست کے چار عظیم خلفاء میں سے تین شہید ہو گئے تھے‘ حضرت عمرؓ پر مسجد نبوی میں حملہ ہوا تھا‘ حضرت عثمانؓ کو مدینہ منورہ میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کیا گیا اورمختلف رروایات کے مطابق آپؓ کی میت تین دن تک قرآن مجید پر پڑی رہی‘حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان جنگ جمل ہوئی اور اس میں سیکڑوں صحابہ کرامؓ شہید ہو گئے‘ حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے درمیان جنگ صفین ہوئی اور اس میں بھی ہزاروںمسلمان شہید ہو گئے اور ان میں صحابہؓ کرام بھی شامل تھے‘ حضرت علی ؓ نے 657ء میں دارالحکومت مدینہ منورہ سے کوفہ شفٹ کر لیا اور پھر14 سو سال سے اسلامی ریاست مختلف خطوں میں بنتیاور ٹوٹتی رہی لیکن یہ مدینہ منورہ واپس نہیں جا سکی لہٰذا ہم اگر خلفاء راشدین جیسی ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر ہم کس خلیفہ راشد کی ریاست بنائیں گے؟ حضرت ابوبکرؓ جیسی‘ حضرت عمر فاروقؓ جیسی‘ حضرت عثمان غنیؓ جیسی یا پھر حضرت علیؓ جیسی اور ہم اگر رسول اللہ ﷺ جیسی ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو کیا یہ ہم جیسے گناہ گار بنا سکتے ہیں؟ رسول اللہﷺ فخر کائنات ہیں‘ ہم ان جیسی ریاست قائمکرنا تو دور ہمیں تو یہ سوچنے سے پہلے بھی اپنی سوچ کو ہزاروں مرتبہ عرق گلاب سے غسل دینا چاہیے‘ پھر بھی شاید ہی ہماری سوچ کا وضو مکمل ہو سکے گا لہٰذا میری علماء کرام سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر ریاست مدینہ کی تشریح کر دیں اور وزیراعظم صاحب کو بھی بتا دیں تاکہ یہ جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھیں تو یہ اپنی ذات میں کلیئر ہوں‘ کیوں؟ کیوں کہ مجھے خطرہ ہے یہ ریاست بنانے کے بعد کہیں یہ نہ سوچ رہے ہوں ہم نے اس ریاست پر تختی کس کی لگانی ہے؟ہم اس بحث کو چند لمحوں کے لیے سائیڈ پر رکھتے ہیں اور فرض کرلیتے ہیں ہمارے وزیراعظم ایک کرائم فری سٹیٹ بنانا چاہتے ہیںتو پھر میرا انہیں مشورہ ہے آپ کو پیچھے ماضی میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں‘ دنیا میں اس وقت 12 کرائم فری ملک ہیں‘ آئس لینڈ پہلے نمبر پر آتا ہے‘ سنگا پور دوسرے‘ آسٹریا تیسرے اور اس کے بعد ڈن مارک‘ پرتگال‘ کینیڈا‘ سوئٹزر لینڈ‘ نیوزی لینڈ‘ ناروے‘ سپین‘ ہانگ کانگ اور نیدرلینڈ آتے ہیں‘ آئس لینڈ میں ہفتہ اور اتوار دو دن تھانے تک بند ہوتے ہیں‘ پورے ملک میںصرف دو سو پولیس اہلکار ہیں اور بس جب کہ دنیا کے ٹاپ 20 کرائم فری ملکوں میں اومان‘ یواے ای‘ قطر اور بحرین چار اسلامی ملک بھی شامل ہیں‘ آپ ان کو کاپی کر لیں‘ آپ اگر ٹیکس فری سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں تو دنیا میں اس وقت 20 ٹیکس فری ملک ہیں‘ ان میں بھی دو اسلامی ملک شامل ہیں‘ آپ اگر ایک غیر مقروض ملک بنانا چاہتے ہیں تو دنیا میں اس وقت 13 غیر مقروض ملک ہیں‘ان میں ایک اسلامی ملک اردن بھی شامل ہے‘ آپ اگر قانون کی ایسی پابند ریاست بنانا چاہتے ہیںجس میں صدر سے لے کر چپڑاسی تک تمام لوگ قانون کی پابندی کرتے ہوں تو دنیا میں اس وقت دس قانون کے پابند ملک بھی ہیں‘ ڈن مارک‘ ناروے‘ فن لینڈ‘ سویڈن‘ ہالینڈ‘ جرمنی‘ نیوزی لینڈ‘ آسٹریا‘ کینیڈا اور آسٹریلیا‘ آپ اگر انصاف پر مبنی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر دنیا میں 9 ایسے ملک ہیںجن کے جسٹس سسٹم کی قسم کھائی جا سکتی ہے اورآپ اگر معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار ملک بنانا چاہتے ہیں تو دنیا میں 15 معاشی طاقتیں بھی موجود ہیں اور آپ اگر ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جن میں عورتوں اور مردوں کے حقوق برابر ہوں تو دنیا میں اس وقت ایسے دس ملک موجود ہیں‘ ان ملکوں میں عورتوں اور مردوں کے ساتھ ساتھ تمام طبقے بھی برابر ہیں‘ ان میں کوئی غریب اور امیر‘ چھوٹا یا بڑا اور کالا اور گورا نہیں‘ تمام انسان برابر ہیں‘ وزیراعظم صاحب ان میں سے کسی ملک کو اٹھائیںاور کاپی کر لیں اور اگر اس کے باوجود ان کا اصرار ہے یہ ریاست مدینہ ہی بنائیں گے تو پھر سوال یہ ہے کیا آپ خود اور آپ کے ساتھی ریاست مدینہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں؟ کیا آپ کی کابینہ کے دس بڑے وزراء ریاست مدینہ کی شہریت کے قابل ہیں‘ کیا آپ ان کی صداقت اور امانت کی قسم کھا سکتے ہیں‘ کیا ان کے دامن اتنے پوتر ہیں کہ انہیں نچوڑ کر فرشتے وضو کر سکیں؟اگر اس کا جواب نہیں ہے اور اگر آپ خود بھی ریاست مدینہ کے سٹینڈرڈ پر پورے نہیں اترتے تو کیا پھر آپ سے ریاست مدینہ کیبنیاد رکھوائی جا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر آپ کس کو دھوکا دے رہے ہیں‘ کس کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور کیا اسلام میں سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کو رسول اللہﷺ کے نام پر عام لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے ہم سب کی عزت‘ جان اور مال ہمارے آقا نبی اکرمؐ پر قربان‘ آپ پلیز ان کا نام لے کر لوگوں کودھوکا نہ دیں‘ اللہ کے عذاب سے ڈریں‘ ہم پہلے ہی اپنی اوقات سے زیادہ عذاب بھگت رہے ہیں۔


زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎