12ہزار درد مندوں کی تلاش

  اتوار‬‮ 11 اپریل‬‮ 2021  |  0:01

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام کرنے والی تنظیموں کے لیے کالم لکھا کرتے تھے‘ یہ فرمایا کرتے تھے کالم بیلنس ہونا چاہیے‘ اس میں معاشرے کے تمام موضوعات شامل ہونے چاہییں‘کالم نگار اگر خود کو سیاست‘ معیشت یا معاشرت تک محدود کرلے گا تو یہ بہت جلد ختم ہو جائے گا‘ موضوعات کا تنوع کالم نگاروں کے لیے نیا خون ہوتا ہے‘ کالم نگاروں کو اپنے کالم کو یہ خون لگواتے رہنا چاہیے‘ حقانی صاحب

یہ بھی فرمایا کرتے تھے‘ ملک میں بے شمار لوگ اور ادارے عوام کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں‘ ہمیں انہیں پروموٹ کرنا چاہیے‘ اس سے تین فائدے ہوتے ہیں‘ بے لوث خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور انہیں محسوس ہوتا ہے ہم جنگل میں ناچنے والے مور نہیں ہیں‘ معاشرے کو ہم اور ہماری خدمت بھی نظر آ رہی ہے اور لوگ ہمیں بھی ایپری شیٹ کر رہے ہیں‘ دوسرا معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہتا ہے‘ ان کے پاس لاکھوں کروڑوں روپے ہوتے ہیں لیکن انہیں عطیہ کرنے کے لیے بااعتماد ادارے اور لوگ نہیں مل رہے ہوتے‘ عوام کالم نگاروں پر یقین کرتے ہیں چناں چہ ہم جب جینوئن اداروں کے بارے میں لکھتے ہیں تو اہل خیر کو راستہ مل جاتا ہے اور یوں اداروں کے پاس ڈونیشن جمع ہو جاتے ہیں اور تیسرا ضرورت مندوں کی بھی رہنمائی ہو جاتی ہے‘ یہ بھی جان لیتے ہیں ملک کے کون کون سے ادارے ہماری مدد کر سکتے ہیں چناں چہ کالم نگاروں کو اہل خیر اور معاشرتی بہبود کے اداروں کو پروموٹ کرنا چاہیے‘ ارشاد احمد حقانی تواتر کے ساتھ ’’ریڈ فائونڈیشن‘‘ پر کالم لکھتے تھے‘ ان کی مدد سے یہ ادارہ چند سکولوں سے تین سو سکولوں تک چلا گیا‘ مختار مسعود مرحوم نے بھی ارشاد احمد حقانی کے کالم سے متاثر ہو کر ریڈ فائونڈیشن کا دورہ کیا‘ فائونڈیشن سے متاثر ہوئے‘ اپنی ساری جمع پونجی اس ادارے کے حوالے کی اور فائونڈیشن نے آزاد کشمیر میں ان کے نام سے ایک بڑا تعلیمی ادارہ بنا دیا‘ آج اس تعلیمی ادارے میں ہزار طالب علم پڑھ رہے ہیں۔میں پہلی مرتبہ حقانی صاحب کے کالم کے ذریعے ریڈ فائونڈیشن سے متعارف ہوا تھا لیکنان لوگوں سے اصل تعارف پچھلے سال ہوا‘ میں ان کے ساتھ بھمبر اور میر پور گیا‘ ان کے تعلیمی ادارے دیکھے‘ ان کے طالب علموں سے ملا اور میری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘ میں نے اس وقت فیصلہ کر لیا‘ میں باقی زندگی اس ادارے کی مدد کرتا رہوں گا‘دنیا کا سب سے بڑا عطیہ رسوخ اور وقت ہوتا ہے‘ اللہ نے مجھے وقت اور تھوڑے بہت رسوخ سے نواز رکھا ہے‘ آپ لوگ مجھے پڑھ لیتے ہیں‘چند ہزار لوگ سن بھی لیتے ہیں چناں چہ میں نے اپنا وقت اور رسوخ ریڈ فائونڈیشن کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ بلامعاوضہ خدمات ہیں اور اگر اللہ نے چاہا تو میں پوری زندگی یہ خدمت کرتا رہوں گا‘شاید یہ خدمت میری اور میرے خاندان کی بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ آپ نے یہ کہانی سنی ہو گی‘ یورپ کے کسی سمندر کی بے رحم موجوں نے ہزاروں مچھلیوں کو ساحل پر اچھال دیا اورمچھلیاں ریت پر تڑپ تڑپ کر جان دینے لگیں ‘ ایک شخص آیا اور ان تڑپتی ‘ بلکتی مچھلیوں کو پکڑ پکڑ کر واپس سمندر میں ڈالنے لگا‘ لوگ حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ ایک شخص آگے بڑھا اور اس سے کہا’’ کیوں اپنے آپ کو تھکا رہے ہو‘ ہزاروں مچھلیا ں ساحل پر تڑپ رہی ہیں‘سمندر میں دوتین مچھلیاں پھینکنے سے کیا فرق پڑے گا ؟ وہ شخص جھکا‘ ایک مچھلی ہاتھ میں پکڑی‘ سیدھا کھڑا ہوا ‘ سوال کرنے والے شخص کی طرف دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی مچلتی ہوئی مچھلی کو سمندر کی جانب اچھال کر بولا‘میں تمام مچھلیوں کی زندگی نہیں بچا سکا لیکن کم از کم یہ ضرور بچ جائے گی‘ ـاس کی زندگی میں ضرور فرق پڑے گا‘ تم ذرا غور سے دیکھو‘ یہ مچھلی سمندر کی لہروں میں غوطہ زن ہے اورموجوںمیں گم ہو کر زندگی کی طرف لوٹ گئی ہے‘‘۔پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ان میں سے 42 لاکھ یتیم ہیں ‘ یہ بچے ایسی ہی مچھلیاں ہیں‘ یہ پاکستان کا مستقبل ہیں‘ ہماری نسلوں کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے ‘ یہ بچے اگر خدانخواستہ جہالت کے اندھیروں میں پروان چڑھے تو یہ ہاتھوں میں گن‘ جسم پر خودکش جیکٹ اور چہرے پر کالے ماسک پہن کر کسی تخریبی سرگرمی کا حصہ بن جائیں گے اور یوں ہماری آنے والی نسلیں غیر محفوظ ہوجائیں گی لہٰذا ان بچوں کو آج نہیں بلکہ ابھی درس گاہوں میں بھیجنا ہو گا‘ حکومتی سطح پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے لیکن شاید حکومت کے پاس وقت اور وسائل نہیں ہیں لیکن کچھ افراد اور تنظیمیں پاکستان میں تعلیم کے میدان میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں‘ان میں ریڈ فاونڈیشن بھی ہے ‘فاونڈیشن نے 26 سالوں میں 390 تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں‘ ان میں سوا لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں‘ یہ تنظیم صرف یتیم بچوں کی تعلیم پر 36 کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے‘ یہ پاکستان کے تمام متعلقہ اداروں سے رجسٹرڈ ہے‘یہ اہل خیر سے پاکستان کے دیہی علاقوں میں سکولز کے لیے زمین کا عطیہ لیتی ہے ‘ اس زمین پر سکول بنانے کے لیے ڈونرز تلاش کرتی ہے اورعمارت بنانے کے بعد مخیر حضرات کے تعاون سے یتیم بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم دیتی ہے‘کسی نے شبلی نعمانی ؒ سے پوچھا تھا ‘آپ نے زندگی میں کیا بڑا کام کیا؟ شبلیؒ بولے ‘میں نے حالی سے مسدس لکھوائی تھی ۔ میں شبلی نعمانیؒ ہوں اور نہ آپ الطاف حسین حالی لیکن ہماری کوشش سے اگر چند مچھلیاں بچ گئیں تو یہ سارا معاشرہ بچ جائے گا چناں چہ میں آپ جیسے اہل دل‘ اہل درد اور اہل کرم حضرات سے اپیل کر تا ہوں ‘آپ اگر تعاون کریں تو میں کل قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں عرض کر سکوں گا میں زیادہ نہیں کر سکا لیکن میں نے چند لوگوں کے ساتھ مل کر چند بچے ضروربچا لیے تھے۔ رمضان کی آمد ہے‘ رمضان میں ہی پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھااور رمضان میں قرآن نازل ہوا ‘رمضان کی فضیلت نزول قرآن کی وجہ سے ہے‘ قرآن جو انسانیت کے لیے بھلائی ہے‘ہدایت ہے‘ رہنمائی ہے‘اسی قرآن میں تعلیم و تربیت کا ذکر آیا ہے‘اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بار بار ترغیب دی گئی ہے‘ رمضان میں تعلیم اور یتیم بچوںکے لیے خرچ کرنے سے بڑھ کر اور صدقہ جاریہ کیا ہو گا؟ یہ انسانوں کی خوراک اور پانی سے بڑھ کرخدمت ہے‘ آپ تعلیم کے ذریعے انسانوں کو مچھلیاں پکڑکر دینے کے بجائے مچھلیاں پکڑنے کا ہنر سکھا دیتے ہیں‘ریڈ فاونڈیشن کے اداروں میں اس وقت12 ہزار یتیم بچے زیر تعلیم ہیں ‘ ایک بچے کی تعلیمی کفالت 30 ہزار روپے سالانہ سے ہوتی ہے ‘ہمیں پاکستان کی 22 کرو ڑ آبادی میں سے صرف12 ہزار ایسے لوگ چاہییں جو اہل دل ہوں‘ اہل درد ہوں اور اہل کرم ہوں‘یہ 12 ہزار لوگ ان یتیم بچوں کے کفیل بن جائیں‘ فاونڈیشن آپ کو ان بچوں کی مکمل معلومات فراہم کرے گی‘ سالانہ بنیادوں پر ان کی پراگریس رپورٹ بھی آپ کو ارسال کرے گی اورآپ کی ضرورت کے مطابق دیگر معلومات بھی فراہم کرتی رہے گی۔ رمضان میں آپ کا معمولی عطیہ اللہ کے ہاں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ آپ اپنی زکوٰۃ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فاونڈیشن کو ارسال کر سکتے ہیں ۔ آپ کی زکوٰۃ سے یہ بچے پڑھیں گے‘یہ کل خاندان بنیں گے اور ان کی نسلیں چلیں گی یوں یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے گا ۔ فاونڈیشن کے رابطہ نمبرز اور بنک اکاونٹس درج کیے جا رہے ہیں۔ آپ کسی کا انتظار نہ کریں ‘ساحل پر پڑی 42 لاکھ مچھلیوں میں سے کسی ایک کی زندگی اور مستقبل بچا لیں۔


زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎