ان میں سے بھی لڑنے کے قابل صرف 62 ہزار تھے‘ اتاترک کی کمان میں 57 رجمنٹ تھی‘ اتاترک نے لڑنے کا فیصلہ کیا‘ انہوں نے 25 اپریل کی صبح اپنے جوان جمع کئے اور ان سے کہا ”میں تمہیں لڑنے کا حکم نہیں دے رہا‘ میں تمہیں مرنے کا حکم دے رہا ہوں“ جوانوں نے اپنے کمانڈر کے حکم پر سر تسلیم خم کیا اور دشمن پر جا گرے‘ گیلی پولی کی اس جنگ میں پوری 57 رجمنٹ ختم ہو گئی‘ رجمنٹ کا کوئی جوان زندہ نہ بچا‘ گیلی پولی کی جنگ صرف جنگ نہیں رہی‘ موت کا رقص بن گئی اور گیلی پولی صرف گیلی پولی نہ رہا وہ قبرستان بن گیا‘ ترکوں نے اتحادی فوجوں کو اڑا کر رکھ دیا‘ گیلی پولی کی جنگ میں برطانیہ کے 73 ہزار دو سو اور فرانس کے 27 ہزار فوجی ہلاک ہوئے‘ برطانوی فوجیوں کی زیادہ تعداد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے تعلق رکھتی تھی‘ ترک شہداءکی تعداد اڑھائی لاکھ تھی‘ ان اڑھائی لاکھ لوگوں میں 57 رجمنٹ کے تمام جوان بھی شامل تھے‘ گیلی پولی کی جنگ سے سیاسی اتاترک کا ظہور ہوا‘ اتاترک نے اس کے بعد ترکی کی آزادی کا جھنڈا اٹھایا اور یوں ایک عظیم اسلامی ملک نے جنم لیا‘ ہندوستان کے مسلمانوں نے گیلی پولی کی جنگ اور جنگ کے بعد اتاترک کی کوششوں کو بھرپور سپورٹ کیا‘ ہندوستانی مسلمان خواتین نے اپنے زیور تک اتار کر ترکی بھجوا دیئے‘ یہ زیورات آج بھی انقرہ کے میوزیم میں موجود ہیں۔
گیلی پولی کی جنگ برطانوی سماج اور ترک نیشنل ازم کی جنگ تھی‘ ترک نیشنل ازم یہ جنگ جیت گیا‘ برطانیہ نے 25 اپریل 2015ءکو لندن میں گیلی پولی کے آنجہانی فوجیوں کے اعزاز میں دعائیہ تقریب منعقد کی‘ آپ ہمارے وزیراعظم کا تاریخ کا ادراک ملاحظہ کیجئے‘ میاں نواز شریف ترکوں کے ہاتھوں مرنے اور ترکوں کو مارنے والے فوجیوں سے اظہار عقیدت کےلئے ہار لے کر اس تقریب میں شریک ہو گئے‘ مجھے شک ہے میاں نواز شریف کو گیلی پولی کی تاریخ معلوم نہیں ہو گی کیونکہ یہ اگر بیک گراﺅنڈ جانتے ہوتے تو یہ کبھی یہ غلطی نہ کرتے‘ یہ 25 اپریل کو برطانیہ کی بجائے ترکی جاتے اور ترک حکومت کی تقریب میں شریک ہوتے‘ ترکی نے بھی 25 اپریل کو گیلی پولی کے شہداءکےلئے سو سالہ تقریبات کا اہتمام کیا تھا‘ یہ کتابوں اور تاریخ سے دوری ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم اپنی قیادت کے ایسے کارناموں میں دیکھتے رہتے ہیں‘ میاں صاحب اور جنرل پرویز مشرف میں کوئی اور بات‘ کوئی اور چیز



















































