اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پس منظر میں امریکا نے اپنی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن خطے میں پہنچ چکا ہے، جس سے امریکی عسکری قوت نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ابراہم لنکن پر مشتمل کیریئر اسٹرائیک گروپ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے، جس کا مقصد علاقائی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ سینٹکام نے اس تعیناتی کی تصدیق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے ذریعے کی۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کی جانب ایک بڑی بحری قوت روانہ کر رہا ہے، تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئے گی۔ یہ جنگی بیڑا رواں ماہ کے آغاز میں ایشیا پیسیفک سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا تھا، جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل متعدد مواقع پر ایران کو متنبہ کر چکے تھے کہ اگر مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رہا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایران میں احتجاجی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی فوج اس سے قبل بھی خطے میں کشیدگی کے مواقع پر اضافی دستے تعینات کرتی رہی ہے، جنہیں عموماً دفاعی اقدامات قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی کارروائیوں سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فوجی تیاری دیکھنے میں آئی تھی۔
طیارہ بردار بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ پینٹاگون نے جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مزید برآں، امریکی فوج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ خطے میں ایک وسیع پیمانے کی فوجی مشق بھی کی جائے گی، جس کا مقصد فضائی طاقت کی تعیناتی، اس کے پھیلاؤ اور طویل مدت تک جنگی صلاحیت برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ایران پر کسی بھی حملے کو مکمل جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔















































