اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

ہفتے میں 4 روز کام، 3 دن چھٹی، ملازمین کی موجیں لگ گئیں

datetime 28  جنوری‬‮  2025 |

لندن(این این آئی )برطانیہ کی 200 کمپنیوں نے ہفتے میں صرف 4 دنوں تک کام کے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مستقل طور پر 4 روزہ ورکنگ ویک کے منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانیہ کی 200 کمپنیوں نے معرک الآرا فیصلہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ورکنگ ویک دوبارہ دریافت کرلیا ہے اور اس سے ملازمین کی تنخواہ یا مالی فوائد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فور ڈے ویک فانڈیشن کے مطابق مذکورہ کمپنیوں کے ملازمین کی مجموعی تعداد 5 ہزار سے زائد ہے، جس میں ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ، فلاحی ادارے بھی شامل ہیں۔

ہفتے میں 4 روز کام کی تجویز دینے والے افراد نے کہا کہ ہفتے میں 5 دن کام معاشی دور سے قبل کا دستور ہے اور فانڈیشن کے مہم ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کام کا وقت 9 سے 5 اور ہفتے میں 5 روز کا رجحان 100 سال قبل پروان چڑھا تھا اور اب یہ مزید کارآمد نہیں رہا۔مہم کے ڈائریکٹر جوئے رائل نے کہا کہ ہفتے میں 4 روز کام کے لیے مختص کرنے کا پہلو ہمارے لیے طویل عرصے سے کرنے کا کام تھا۔انہوں نے کہا کہ ہفتے میں 4 دن کام اور 50 فیصد فری ٹائم کے ساتھ ملازمین کو خوش رہنے کی آزادی ملی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو مزید خوش گوار بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی سیکڑوں اور ایک مقامی کونسل نے پہلے ہی اس پر عمل کردیا ہے اور انہیں ہفتے میں 4 روز کام سے کوئی مالی نقصان نہیں ہوا اور یہ فیصلہ ملازمین اور کمپنی دونوں کے لیے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔

مارکیٹنگ، ایڈورٹائزنگ اور پریس ریلیشنز کمپنیاں اس حوالے سے سرفہرست ہیں اور 30 کمپنیوں نے اس پالیسی کو اپنایا ہے، فلاحی اداروں، این جی اوز اور سوشل انڈسٹری کی 29 کمپنیاں اور ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور سوفٹ ویئر کمپنیاں 24 ہیں۔اس کے علاوہ کاروبار، کنسلٹنگ اور منیجمنٹ سیکٹر کی 22 کمپنیاں بھی مستقل طور پر ہفتے میں 4 دن کام کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ مجموعی طور پر 200 سے زائد کمپنیوں نے ہفتہ وار دنوں میں کمی کا اپنا عزم دہرایا ہے اور اس کے حامی کہتے ہیں یہ اقدام ملازمین کے لیے پرکشش اور ملازمت جاری رکھنے کے لیے اہم ہے، اسی طرح اس اقدام سے کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید بتایا گیا کہ لندن کی فعال ترین کمپنیوں میں سے 59 کمپنیاں ہفتے میں 4 روز کام کرنے والی کمپنیاں ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جانب امریکی کمپنیاں بشمول جے پی مورگن چیز اور ایمیزون نے سخت قواعد جاری کر رکھے ہیں اور ملازمین کو ہفتے میں 5 روز دفتر میں حاضری لازمی قرار دی ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…