جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ نظر کی کمزوری کا شکار

datetime 27  ستمبر‬‮  2024 |

مکوآنہ (این این آئی)ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ بصارت کی کمزوری کا شکار ہے۔ٹیکنالوجی میں سب سے آگے رہنے والے یا وہ ممالک جہاں بچے انتہائی چھوٹی عمر میں پڑھنا شروع کرتے ہیں، وہاں بچوں میں نظر کی کمزوری ان ممالک سے زیادہ پائی گئی جہاں بچے بڑی عمر میں پڑھنا شروع کرتے ہیں۔

طبی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق دنیا کے 6 براعظم کے 50 سے زائد ممالک کے 50 لاکھ سے زائد بچوں پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جاپان، سنگاپور، کوریا، ہانگ کانگ اور چین جیسے ممالک میں بچے نظر کی کمزوری کا زیادہ شکار ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 6 بر اعظموں میں سب سے زیادہ ایشیا میں بچوں کی نظر زیادہ کمزور پائی گئی جبکہ جاپان میں بچوں میں بصارت کی کمزوری کی شرح سب سے زیادہ 85 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح جنوبی کوریا میں 73 فیصد، چین اور روس میں ترتیب وار چالیس فیصد ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسے خطوں میں بھی بچوں کی نظر زیادہ کمزور پائی گئی، کیوںکہ وہاں بچے کم عمری میں سکول جانے سمیت سکرینز کا استعمال بڑھا دیتے ہیں جبکہ وہ قدرتی نظاروں کو دیکھنا کم کر دیتے ہیں۔

حیران کن طور پر معلوم ہوا کہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی نظر زیادہ کمزور پائی جاتی ہے کیوںکہ وہ جہاں کم عمری میں سکول جانا شروع کرتی ہیں، وہیں انہیں گھر سے باہر جانے کے مواقع بھی کم ملتے ہیں۔ماہرین نے دیکھا کہ 1990 کی دہائی کے بعد بچوں کی نظر کمزور ہونا شروع ہوئی اور مسلسل اس میں اضافہ دیکھنا میں آیا لیکن کورونا کے لاک ڈاؤن کے بعد بصارت میں کمزوری دگنی ہوگئی۔ماہرین کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے بعد جہاں بچوں نے گھر میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی، وہیں انہوں نے موبائل اور ٹی وی سکرینز پر وقت زیادہ گزارنا شروع کیا، جس سے ان کی بصارت نمایاں حد تک کمزور ہوگئی۔ڈاکٹرز کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ بصارت کی کمزوری کا شکار ہے، یورپ کے متعدد ممالک میں بچوں کی نظر ایشیائی ممالک کے مقابلے کم شرح میں کمزور ہو رہی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ براعظم افریقہ میں بھی ایشیا کے مقابلے بچوں کی بصارت اتنی زیادہ خراب یا کمزور نہیں، کیوںکہ وہاں بچے عمومی طور پر 7 سال کی عمر میں سکول جانا شروع کرتے ہیں اور وہاں بچوں کو سمارٹ سکرینز تک زیادہ رسائی حاصل نہیں ماہرین کا کہنا تھا کہ بچوں میں نظر کی کمزور دو سال کی عمر سے قبل ہونا شروع ہو رہی ہے جو مسلسل 20 سال کی عمر تک کمزور ہوتی رہتی ہے، اس کے بعد آنکھوں کا بڑھنا رک جاتا ہے، جس وجہ سے نظر بھی مزید کمزور نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…