پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

لبنان میں پیجرز دھماکوں میں بھارتی شہری کا نام سامنے آنے لگا

datetime 21  ستمبر‬‮  2024 |

بیروت(این این آئی)لبنان میں ہونے والے پیجرز دھماکوں میں مبینہ طور پر بھارتی شہری کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 17 ستمبر کو اسرائیل نے لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کے کمیونی کیشن سسٹم کو ہیک کرلیا تھا، جس کے باعث حزب اللہ کے زیر استعمال پیجرز ڈیوائسز کی بیٹریاں پھٹ گئی تھیں جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 20 سے زائد افراد جاں بحق اور ایرانی سفارتکار سمیت ڈھائی ہزار زخمی ہوگئے تھے۔

پیجرز دھماکوں سے متعلق ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ حزب اللہ نے 6 ماہ قبل تائیوان سے 5000 پیجرز درآمد کیے تھے اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کو پہلے سے ہی اس بات کی اطلاع تھی تو اس کے ایجنٹوں نے پیجرز کی تیاری کے وقت بیٹری کے ساتھ باردو مواد نصب کردیا تھا۔ پیجرز دھماکوں کے دو دن بعد بلغاریہ کی کمپنی کا نام سامنے آیا جس کے بعد وہاں کی سکیورٹی ایجنسی ڈی اے این ایس کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ملکی وزارت داخلہ کے ساتھ ملکر پیجرز دھماکوں میں نوٹرا گلوبل نامی کمپنی کے کردار کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مذکورہ نوٹرا گلوبل نامی کمپنی سال 2022 میں بلغاریہ کے شہر صوفیا میں رجسٹرڈ ہوئی تھی جسے بھارتی شہری رنسن جوز چلا رہا تھا۔ڈی اے این ایس نے اگلے ہی روز بیان دیا کہ لبنان میں دھماکوں سے تباہ کیے جانے والے پیجرز نا تو بلغاریہ سے امپورٹ یا ایکسپورٹ کیے گئے اور نا ہی بنائے گئے، ایجنسی کے تحقیقات کے مطابق نارویجن کمپنی کے مالک نے کوئی ایسی ٹرانزیکشن نہیں کی جو ملکی قوانین کے مطابق دہشتگری کی معاونت کے زمرے میں آتی ہو۔

ادھر ناورے کی پولیس کا کہنا تھا کہ نارویجن شہری کا نام سامنے آنے کے بعد انہوں نے بھی معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرلا سے تعلق رکھنے والا رنسن جوز دو سال قبل تعلیم حاصل کرنے کیلیے ناروے کے دارالحکومت اوسلو گیا تھا جبکہ اس کے رشتہ داروں نے دعوی کیا ہے ہے کہ رنسن ایک کھرا بندہ ہے جس پر ہم بہت اعتماد کرتے ہیں، وہ کسی غلط کام میں ملوث نہیں ہو سکتا، ممکن ہے کہ اسے معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…