منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جاپان کے سرکاری اسکولوں میں انگریزی پڑھانے کیلئے اساتذہ بھیجنے کی تیاری

datetime 30  جولائی  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)وزارت برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کے ماتحت اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) جاپان کے سرکاری اسکولوں میں انگریزی پڑھانے کیلئے اساتذہ بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔نجی ویب سائٹ پرو پاکستانی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جاپان کو انگریزی زبان کے 30 معاون اساتذہ کی فوری ضرورت ہے۔ امیدواروں کے پاس بیچلر ڈگری یا اس کے مساوی، کم از کم ایک سال کا تجربہ، اور عمر 24 سے 45 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ مرد یا عورت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق جاپان جاکر انگریزی پڑھانے والوں کو 220,000 ین (پاکستانی تقریبا چار لاکھ روپے)تک تنخواہ اور مفت ٹرانسپورٹیشن فراہم کیا جائے گا۔

یہ ایک کانٹریکٹ بیس ملازمت ہوگی اور 7 اپریل 2025 سے 24 مارچ 2026 تک ایک سال کے معاہدے پر مبنی ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندگان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے، وہ کام کے لیے موزوں ہوں (حالیہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ)، اور انہیں مالی استحکام کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔درخواست گزار کو جاپان میں ذاتی رہائش کے لیے پرواز کے اخراجات کے علاوہ کم از کم چھ لاکھ ین (اپکستانی 10 لاکھ روپے سے زائد) اور مشترکہ رہائش کے کم از کم تین لاکھ ین (پاکستانی 5 لاکھ روپے سے زائد) درکار ہوں گے۔ امیدواروں کو اپنی سی وی کے ساتھ تین منٹ تک کی خود کی تعارفی ویڈیو شامل کرنی ہوگی۔

انہیں پاکستان میں M/s Borderlink کے تربیتی سیشن کے لیے دستیاب ہونا ہوگا اور 31 مارچ 2025 تک جاپان میں اپنے مقرر کردہ مقامات پر پہنچنا ہوگا۔ذاتی رہائش کے لیے درخواست دہندگان کو 250,000 سے 350,000 ین تک کے اپارٹمنٹ کے اخراجات کو پورا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مشترکہ رہائش کے لیے، انہیں شروعاتی تاریخ سے کم از کم ایک سال تک ہاسنگ شیئر کرنے پر رضامند ہونا ہوگا۔بنیادی جاپانی مہارتوں اور متعلقہ سرٹیفیکیشنز جیسے کہ مقامی تدریسی سرٹیفکیٹ، TESOL ، TOEFL، اور/یا CELTA رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔دلچسپی رکھنے والے امیدوار او ای سی کی ویب سائٹ https://oec.gov.pk کے ذریعے درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…