منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تارکین وطن کے لئے جرمن شہریت کا حصول آسان ہوگیا

datetime 25  جولائی  2024 |

برلن (این این آئی )جرمنی کو ہنر مند افراد کی ضرورت ہے اور آپ کو شاید جرمن ویزے کی، تو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں اور آپرچیونٹی کارڈ سے فائدہ اٹھائیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی میں آئی ٹی کے شعبے میں ملازمتوں کی خالی آسامیوں کی تعداد گذشتہ سال ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ ڈیجیٹل ایسوسی ایشن بٹکوم کا کہنا ہے کہ ایسی خالی آسامیوں کی تعداد بڑھ کر 149،000 ہو گئی ہے۔بٹکوم کے صدر رالف ونٹرگرسٹ نے بٹکوم کے سالانہ لیبر مارکیٹ سٹڈی کو پیش کرنے کے موقع پر کہا کہ آئی ٹی ماہرین کی کمی کا معاشی دائرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ جرمن معیشت کے لیے ایک باقاعدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم ہنر مند کارکن اور بہت زیادہ ریگولیشن ڈیجیٹل جرمنی کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔اگر آپ جرمنی جا کر محنت کرنے کو تیار ہیں تو موقع کارڈ یعنی اپرچونیٹی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

اس نئی ویزا سکیم کا مقصد جرمنی میں ہنرمند لیبر کی شدید کمی کو دور کرنا ہے۔اس نئی ویزا سکیم کے بارے میں جرمن وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ جرمنی اب ان ہنرمندوں کو ملک میں آنے کی اجازت دے رہا ہے جن کی جرمن معیشت کو برسوں سے ضرورت تھی۔آپرچیونٹی کارڈ میں وہ افراد درخواست دے سکیں گے جن کے پاس اپنے پیشے کی کم سے کم دو سال کی تربیت یا کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی سے ڈگری ہو۔ جرمن یا انگریزی زبان سے واقفیت ہو۔

اسکیم کے لیے اہلیت کا فیصلہ پوائنٹس سسٹم کے مطابق درخواست گزار کی زبان کی مہارت، پیشہ ورانہ تجربہ، عمر اور جرمنی سے تعلق کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کارڈ حاصل کرنے کے لیے کم از کم چھ پوائنٹس کی ضرورت ہو گی۔اگر آپ کو یہ کارڈ مل جاتا ہے تو آپ جرمنی میں ایک سال رہتے ہوئے نوکری کی تلاش کر سکیں گے۔ اور اس دوران ہفتے میں 20 گھنٹے تک پارٹ ٹائم جاب کی بھی اجازت ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…