منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چین میں دنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر تیار

datetime 7  جون‬‮  2024 |

بیجنگ(این این آئی)چائنا گرین ڈیویلپمنٹ گروپ نے 3.5 جیگاواٹ کے بجلی گھر کو سوئچ آن کردیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا سولر بجلی گھر ہے جو چین کے سنکیانگ ریجن کے علاقے ارومکی میں واقع ہے۔ اس بجلی گھر کی تعمیر پر 2 ارب 13 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ منصوبہ چائنا گرین ڈیویلپمنٹ گروپ کے تحت کام کرنے والے ادارے چائنا گرین الیکرسٹی انویسٹمنٹ نے تیار کیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2020 میں چین کے سرکاری ملکیت کے ادارے ہوانگہی پاور ڈیویلپمنٹ نے دنیا کا سب سے بڑا سولر پارک شروع کیا تھا جو 2.2 جیگاواٹ کا تھا۔

مِنڈونگ پراجیکٹ کو چائنا کنسٹرکشن ایٹتھ انجینیرنگ ڈویژن کارپوریشن اور پاور کنسٹرکشن آف چائنا نے مختلف مراحل میں مکمل کیا۔ اس بجلی گھر کی تیاری کے لیے 52 لاکھ 60 ہزار سے ائد پینل استعمال کیے گئے ہیں۔چین کے اس بجلی گھر میں 12 لاکھ 30 ہزار سپورٹ پائلز بھی نصب ہیں، 220 کلو واٹ کے 5 بوسٹر اسٹیشن بنائے گئے ہیں، 750 کلو واٹ کے سب اسٹیشن کے ذریعے اس بجلی گھر کی پیداوار کو نیشنل گرڈ میں ڈالنے کے لیے 208 کلو میٹر لمبائی کی ٹرانسمیشن لائنز بروئے کار لائی گئی ہیں۔

چائنا گرین ڈیویلپمنٹ گروپ مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے جو 2020 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس سے قبل متبادل توانائی کے حوالے سے معاملات سرکاری گرڈ کی ملکیت والے ادارے لونینگ گروپ کے ہاتھ میں تھے۔اس گروپ کا نظم و نسق براہِ راست ایسیٹس سپروِژن اینڈ ایڈمنسٹریشن کمیشن آف اسٹیٹ کونسل کے ہاتھ میں ہے۔ یہ گروپ سالِ رواں کے آخر تک متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو 20 جیگاواٹ سے زیادہ کی سطح پر لے جانا چاہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…