ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

امریکی یونیورسٹی نے ذہین ترین مسلمان طالبہ کی تقریر منسوخ کردی

datetime 17  اپریل‬‮  2024 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی نے ذہین ترین مسلم طالبہ کی تقریر منسوخ کردی۔ یونیورسٹی میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، روایت کے مطابق، اثنا تبسم کی تقریر سے ہونا تھا۔ یہ اس کے لیے بہت بڑا اعزاز ہوتا مگر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بظاہر اس خوف سے تقریر منسوخ کردی کہ کہیں اثنا تبسم تقریر میں فلسطین کا ذکر اور اسرائیل کی مذمت نہ کر بیٹھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پرو ووسٹ اینڈریو گزمین نے آن لائن کیمپس لیٹر میں کہا کہ کئی دن سے اس حوالے سے مشاورت ہو رہی تھی۔ اس حوالے سے بحث و تمحیص شدت اختیار کرگئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ کی صورتِ حال اور سوشل میڈیا پر چل رہے رجحانات کے باعث معاملات اِتنے بگڑے کہ یونیورسٹی کے لیے سیکیورٹی خدشات پیدا ہوگئے۔21 سالہ اثنا تبسم کو، جس کا آبائی تعلق تعلق جنوبی ایشیا سے ہے، یہ تقریر 10 مئی کو کرنی تھی۔ مئی 2020 میں اثنا کو اپنے اسکول کی ذہین ترین طالبہ قرار دیا گیا تھا مگر تب کورونا کی وبا کے باعث اسے تقریر کا موقع نہیں ملا۔اثنا تبسم نے اس فیصلے پر شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر افسوس بھی ظاہر کیا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے میری آواز دبانے کی خاطر چلائی جانے والی نفرت انگیز مہم کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (لاس اینجلس) کو جاری کردہ ایک بیان میں اثنا تبسم نے کہا کہ مجھے ان لوگوں پر کچھ حیرت نہیں جو نفرت پھیلاتے ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ میری اپنی یونیورسٹی نے، جو چار سال سے میرے لیے گھر کی طرح ہے، مجھے چھوڑ دیا ہے۔یونیورسٹی کی اسوسی ایٹ وائس پریزیڈنٹ فار اسٹریٹجک اینڈ کرائسز کمیونی کیشن لارین بارٹلیٹ نے سی این این سے گفتگو کہا کہ یونیورسٹی میں سیشن کے آغاز سے متعلق پروگرام میں تبدیلی صرف ایک طالبہ کی تقریر پر اثر انداز ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر سیکیورٹی خدشات کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔اثنا تبسم کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر منسوخ کرنے کا فیصلہ شاید صرف سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ منافرت پھیلانے والے گروپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے ہوں۔ اثنا نے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے کہا تھا کہ یونیورسٹی کو جو سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں ان کی تفصیل فراہم کی جائے۔ یونیورسٹی اس حوالے سے خصوصی سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…