بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کو کشمیر میں اپنا ترنگا لہرانے کے لئے حیران کن کام کرنا پڑ گیا، ویڈیو نے بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

سرینگر(آن لائن)بھارتی کے یوم آزادی کے موقعے پر بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے سرینگر کے لال چوک میں گھنٹہ گھر پر ترنگا لہراتے ہوئے ایک تصویر شئیر کی گئی ہے تاہم تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ تصویر پر سافٹ وئر کے ذریعے ترنگاں چسپاں کرکے وائرل کیا گیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یوم آزادی کے موقع پر وادی کے بیشتر علاقوں میں پابندیاں عائد تھیں اور صبح سے ہی انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل کیا کیا تھا،

لوگ اپنے گھروں میں ہی محدود تھے جبکہ سری نگر شہر کے خارجی و داخلی علاقے خاردار تاروں سے سیل کیے گئے تھے۔ جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر سرینگر کے لال چوک علاقے میں واقع گھنٹہ گھر پر ترنگا لہراتے ہوئے ایک تصویر وائرل ہوئی۔ اس تصویر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈران نے ٹوئٹر پر مسلسل شیئر کیا۔بی جے پی کے لداخ سے رکن پارلیمان جامیانگ نامگیال نے گھنٹہ گھر پر ترنگا لہراتے ہوئے ایک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے لیے گئے 15اگست کے فیصلے کی تعریف کی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد کیا بدلا؟ سرینگر کا لال چوک جو ملک مخالف سرگرمیاں، خاندانی سیاست دانوں کا اڈہ بنا ہوا تھا قومیت کے تاج میں تبدیل ہوا ہے۔ میں اپنے ہم وطنوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں رائے دہندگی کی۔ عام آدمی پارٹی کے سابق لیڈر، کپل مشرا، جو اب بی جے پی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں نے بھی اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یرحیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں لیڈران نے تصویر کو ٹویٹ کرنے سے قبل زمینی حقائق جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔ یہ تصویر آج کی نہیں بلکہ س2010 کی ہے۔ اور اصل تصویر میں ترنگا کہیں بھی موجود نہیں۔ساوتھ ایشین وائر نے جب ریورس سرچ کا استعمال کرتے ہوئے تصویر کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ تصویر 2010 میں صحافی

مبشر مشتاق نے اپنی خبر پیراڈائز لاسٹ میں استعمال کی تھی۔ اور اسی وقت یہ پہلی بار اپ لوڈ بھی کی گئی تھی، جس میں ترنگا موجود نہیں۔بی جے پی لیڈران کے ذریعے شیئر کی گئی تصویر کو غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ تصویر بہت پرانی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کے دعوے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر کیے گئے ہوں۔ اس سے قبل بھی ایسی کوششیں کی گئی ہیں اور اکثر دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔جب ساوتھ ایشین وائر نے سائبر سیل سے رجوع کیا تو انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ تصویر پرانی ہے اور ان حالات میں انہیں سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر شیئر کرنا صحیح نہیں۔اس ضمن میں کیا کارروائی کی جائے گی؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ زیر غور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…