اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر پرمئوقف کی وجہ سے بھارت سے تعلقات خراب ہونا کوئی بڑی قیمت نہیں،مہاتیر محمد کا ایسا اعلان جس نے مودی سرکار کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 9  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملایشیاء کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لینے کے لیے عالمی برادری پر زور دیا ہے ۔ریڈیو پاکستان کے مطابق کوالالمپور میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے

بھارتی فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا۔قومی اخبار ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے خطے میں لاکھوں فوجی تعینات کررکھے ہیں اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے سیاسی رہنمائوں، اختلاف رائے رکھنے والے شہریوں اور بچوں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور لاک ڈائون پر سخت عملدرآمد کیلئے ٹیلی فون موبائل اور انٹرنیٹ کی خدمات پر پابندی عائد ہے۔ کشمیری بھارت کی نو لاکھ قابض فورسز کے محاصرے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کے نفاذ سے قابض فورسز جموں وکشمیر کے شہریوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنارہی ہیں۔مہاتیر بن محمد نے ٹوئٹر پر کشمیریوں سے بے باکانہ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہمیں انسانیت کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے میرے بیانات کا کیا ردعمل آئے گا تاہم خاموش رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ستمبر میں سلامتی کونسل میں ان کے بیانات سے بھارت کو ملائیشیا کے پام آئل کی برآمدات متاثر ہوئی جس کا انہیں افسوس ہے تاہم ’’میں نہیں سمجھتا کہ اتنی کھلی ناانصافی کے خلاف اٹھانے کی یہ کوئی زیادہ قیمت ہے‘‘۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اب میں وزیر اعظم نہیں رہا اس لیے میں مزید بے باکی سے کشمیر کے لیے بغیر کسی مصلحت کے آواز اٹھا سکتا ہوں۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے تقریب میں خطاب کی تصویر بھی پوسٹ کی۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کشمیریوں کی حمایت میں اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے پر ڈاکٹر مہاتیر محمد کا شکریہ اداکیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…