بھارت کا چین کے 90ہزاراسکوائر کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ ۔۔۔ دونوں ممالک میں جنگ کیوں نہیں ہو سکتی ؟صورتحال کو ذمہ داری سے حل کر نے پر اتفاق، بھارت کے دعوے پر چین کا دھماکہ خیز اعلان

  جمعہ‬‮ 19 جون‬‮ 2020  |  11:45

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کو خبردار کیا ہے کہ وہ وادی گلوان کے حوالے سے بلند و بانگ اور ناقابل دفاع دعوؤں سے گریز کرے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ادی گلوان کے حوالے سے چین کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا نے کہا کہ دونوں ملکوں نے صورتحال کو ذمے داری سے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے، البتہ بلند و بانگ اور ناقابل دفاع دعوے اس مفاہمت کی نفی ہو گی۔دونوں ملکوں کی افواج نے ایک دوسرے پر جھڑپشروع کرنے کا الزام عائد کیا جہاں مذکورہ وادی ہمالیہ


کی سرحدوں پر لداخ کے متنازع علاقے میں واقع ہے۔ادھر ماہرین نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست جنگ کے امکانات انتہائی کم ہیں البتہ کشیدگی میں کمی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔چین دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کا 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ بھارت میں واقع ہے جس کے جواب میں بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ چین کی حدود میں اکسائی چن کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎