جنگ یا امن؟ رہائی پانے والے طالبان نے بڑا اعلان کردیا

  بدھ‬‮ 27 مئی‬‮‬‮ 2020  |  16:45

کابل (این این آئی)طالبان سے جنگ بندی کے تیسرے اور آخری روز اس میں توسیع کے مطالبے کے ساتھ افغان حکام نے سیکڑوں مزید طالبان قیدیوں کو رہا کردیا۔کشیدگی میں یہ وقفہ تقریبا 19 سال کی جنگ میں دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے جو پورے افغانستان میں عمل میں آیا اور اس کی وجہ سے کشیدگی کی زد میں آنے والوں کو کچھ مہلت ملی ہے۔ افغان حکومت کی طرف سے یہ اقدام طالبان کی تین روزہ جنگ بندی کی پیش کش کے جواب میں 2 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کا حصہ ہے۔افغان حکومت کی جانب سے رہا


کیے جانے والے طالبان قیدیوں کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد وہ امن سے رہیں گے یا دوبارہ بندوق اٹھائیں گے، یہ ان اْن کی قیادت کے فیصلے پر منحصر ہے اور وہ اب بھی اْن کے کہنے پر لبیک کہیں گے۔افغان حکومت نے بگرام اور پل چرخی سمیت ملک کی دیگر جیلوں سے طالبان کے 900 قیدی رہا کیے، جن میں سے 600 کے قریب صرف بگرام جیل سے رہا ہوئے۔اس سال 28 فروری کو دوحہ میں ہونے والے امریکہ-طالبان امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ ایک دن میں اتنی زیادہ تعداد میں طالبان قیدی رہا ہو گئے ہیں۔رہائی پانے والے طالبان کا کہنا ہے کہ ہم کسی غیر ملکی کو اپنی زمین پر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے، انہیں فوری طور پر یہاں سے جانا ہوگا۔ رہائی پانے والے ہر قیدی کو تقریباً 65 ڈالر کی رقم افغان کرنسی میں دی گئی۔افغانستان کے قومی سلامری کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ رہائی پانے والے قیدیوں کی اصل تعداد قانونی کارروائی کیے جانے کے بعد جاری کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کو امید ہے کہ طالبان جنگ بندی میں توسیع کریں گے تاکہ امن مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔افغان حکومت رہا ہونے والے قیدیوں سے بیانِ حلفی لیتی ہے کہ وہ دوبارہ بندوق نہیں اْٹھائیں گے اور رہا ہونے والے تمام طالبان قیدی اس حلفیہ بیان پر دستخط بھی کرتے ہیں۔تاہم بگرام جیل سے رہا ہونے والے بیشتر طالبان قیدیوں نے غیر ملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رہا ہونے کے بعد بھی وہ امن اور جنگ کے راستے کا انتخاب قیادت کے کہنے پر ہی کریں گے۔ ابیشتر رہا ہونے والے طالبان قیدی یہ نہیں مان رہے تھے کہ اْنھیں جنگ کے میدان یا پھر حملوں کے دوران گرفتار کیا گیا بلکہ اس کے برعکس وہ یہ بتا رہے تھے کہ وہ اپنے گھروں سے ہی گرفتار ہوئے ہیں۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ بھی بہت جلد اتنے تناسب کے ساتھ حکومت کے قیدی رہا کریں گے۔دوحہ میں ہونے والے امریکہ-طالبان امن معاہدے کے مطابق بین الافغان مذاکرات سے پہلے ہی افغان حکومت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کریں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اْن کی پہلے دن سے یہی خواہش رہی ہے کہ قیدیوں کی رہائی جلد از جلد ہو تاکہ بین الافغان مذاکرات جلد شروع ہوں۔اس سے پہلے عید سے ایک دن قبل طالبان نے عید کے تین دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جس کے جواب میں افغان حکومت نے بھی تین دن تک جنگ بندی کا اعلان کیا۔دونوں جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد عید کے پہلے دن افغان صدر اشرف غنی نے دو ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا، جس کے بعد منگل کو 900 طالبان قیدی مختلف جیلوں سے رہا ہوئے۔ تاہم افغان نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ باقی طالبان قیدیوں کی رہائی طالبان کی جانب سے پرتشدد واقعات میں کمی اور جنگ بندی میں توسیع کی صورت میں ہوگی۔کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اْن کا کہنا تھا کہ اگر طالبان تین روزہ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کریں، تو اْن کے مزید قیدی بھی جلد رہا ہوجائیں گے، جس کے بعد بین الافغان مذاکرات بھی جلدی شروع ہوجائیں گے۔ 260 کے قریب حکومتی قیدی بھی طالبان کی جانب سے رہا کیے گئے ہیں۔


موضوعات: