اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

چین میں حساس تجربہ گاہیں ابھی بھی کھلی اور وہاں۔۔۔امریکہ نےچین پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے معائنے کا مطالبہ کر دیا

datetime 23  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن ( آن لائن )امریکہ نے چین سے حساس لیبارٹریوں کے معائنے کا مطالبہ کر دیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین میں حساس تجربہ گاہیں ابھی بھی کھلی ہیں اور ان پر کام ہو رہا ہے۔ ایسے مواد کو محفوظ طریقے سے ہینڈل کیا جائے تاکہ حادثاتی طور پر پھیلنے سے بچا جاسکے۔ امریکی صدر نے چند روز قبل چین پر الزام لگایا تھا کہ مہلک وائرس ووہان کی تجربہ گاہ میں بنا اور وہیں سے لیک ہوا تاہم چین نے اس الزام کی سختی سے تردید کر دی تھی۔

گزشتہ روز امریکی ریاست میسوری نے کورنا وائرس کے معاملے پر لاپرواہی برتنے پر چین کی حکومت پر مقدمہ بھی دائر کر دیا ہے۔ریاست میسوری نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی حکومت کے عہدے دار عالمی وبائی مرض پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔مقدمہ ریاست میسوری کے اعلی وکلا کے ذریعے وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔ریاست میسوری کے اٹارنی جنرل ایرک شیمٹ نے عدالت میں ایک تحریری بیان کہا ہے چینی حکومت نے کورونا وائرس کے خطرات اور متعدی نوعیت کے بارے دنیا سے جھوٹ بولا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چینی حکومت ریاست میسوری کے امریکی شہریوں سمیت دنیا بھر میں ہونے والی بڑے پیمانے اموات، مصائب اور معاشی نقصان کی ذمہ دار ہے لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چینی حکومت نے کورونا وائرس کے خطرات کے بارے جھوٹ بولا اور اس کے پھیلاؤ کو ظاہرکرنے کے لیے کافی کام نہیں کیا۔اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چین نے دینا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آگاہی فراہم کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھی، چینی حکومت کو ان کے اعمال کے لیے جوابد ہ ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…