اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں مسلمانوں کیخلاف بڑی سازش بے نقاب،کرونا وائرس کی آڑ میں کیا گھنائونا کھیل کھیلا جارہا ہے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  اپریل‬‮  2020 |

لندن ( آن لائن ) مسلمانوں کے خلاف نفرت روکنے کے حوالے سے کام کرنے والے سرکاری گروپ اے ایم ایچ ڈبلیو جی نے اپنی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہا پسند منظم انداز میں مسلمانوں پر کورونا وائرس پھیلانے کا جھوٹا الزام لگا رہے ہیں۔

شدت پسند پرانی ویڈیوز استعمال کرتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ مساجد اب بھی کھلی ہیں، جس کے بعد پولیس کو کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔بدزبانی پر مبنی ان آن لائن پوسٹس میں مساجد منہدم کرنے کو کورونا وائرس کا علاج قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔فیس بک، ٹوئٹر، ٹیلی گرام اور وٹس ایپ گروپس میں موجود پوسٹس کا جائزہ لینے کے بعد اس رپورٹ نے ان نظریات کی نشاندہی کی، جن میں دعویٰ ہے کہ مسلمان اور مساجد کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں۔کوویڈ۔19 بحران کو مسلمانوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور ان کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ جعلی خبروں کا آن لائن پھیلانا اس انتہائی تشویشناک رجحان میں مدد فراہم کررہا ہے۔ایک حالیہ واقعے میں ایک مسلمان عورت جس نے حجاب اور حفاظتی ماسک پہن رکھا تھا، ایک سپر مارکیٹ میں موجود ایک شخص نے اپنے ساتھی کہا ‘‘دیکھو ، ایک بم’’ کہتے ہوئے عورت کی طرف اشارہ کیا۔ایک اور واقعے میں ، جس کی اطلاع میٹرو پولیٹن پولیس کو دی گئی ، ایک مسلمان خاتون نے بتایا کہ ایک شخص نے اس کے منہ پر کھانسا اور کہا’مجھے کورونا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…