جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائر س کی تباہ کاریوں کی پیش گوئی 40سال پہلے ہی ہو گئی تھی ، امریکہ ناول کی تحریر نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا

datetime 19  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی) ایک دم سراٹھانے اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں انسانوں کی زندگیاں نگل جانے والے پر اسرار کرونا وائرس سے متعلق مختلف آرا گردش کر رہی ہیں، جنہیں کوئی حقیقت گردانتا ہے تو کوئی سازشی نظریہ کا نام دیتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ’’دی آئیز آف ڈارکنس‘‘نامی ناول زیر بحث ہے، جس میں امریکی لکھاری نے چالیس برس قبل چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس جیسی وبا کی پیشگوئی کی تھی، جسکا نام ووہان فور ہنڈرڈ وائرس تھا۔ناول کے مطابق انسانوں کابنایا ہوا پر اسرار وائرس صرف انسانوں کو متاثر کرتا جبکہ دیگر جانور محفوظ رہتے ہیں۔ انسانی جسم سے باہر کچھ ہی لمحوں بعد بے اثر ہو جاتا تاکہ کوئی جگہ یا علاقہ ہمیشہ کے لئے آلودہ نہ ہوجائے اور جیسے ہی مرنے والے شخص کے جسم کا درجہ حرارت تیس سے کم ہوتا تو وائرس جسم سے غائب ہوجاتا۔1981 میں لکھے گئے ناول میں ڈین کونٹز نے بائیولوجیکل ہتھیاروں میں جس مہلک ترین ووہان فوہنڈرڈ وائرس کا تذکرہ کیا وہ ایک پوری آبادی کو موت کے منہ میں اتارنے کے بعد خود بھی ختم ہو جاتا تاکہ دشمن بغیر متاثر ہوئے پورے شہر پر قبضہ کرسکے۔سوشل میڈیا پر امریکی ناول کے چرچے کے ساتھ ہی بھارت کی ایک اور خبر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی بعد بھارت سرکار نے ریاست ناگالینڈ میں ہونے والی مشکوک سائنسی تحقیق کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

اخبار دی ہندو کے مطابق مہلک وائرس سے متعلق تحقیق کرنے والے چین ، امریکا اور بھارت کے ریسرچرز پر مشتمل بارہ رکنی ٹیم نے چمگادڑوں اور انکا شکار کرنے والے افراد کے خون کے نمونے حاصل کئے ریسرچرز کی ٹیم میں دو افراد کا تعلق چین کے شہر ووہان میں واقع ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی سے تھا اور تحقیق کی فنڈنگ امریکی محکمہ دفاع کے ادارے ڈیفنس تھریٹ ریڈکشن ایجنسی نے کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…