جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کا شکار والد سے علیحدہ ہونے کے باعث معذور بیٹا ہلاک چینی حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کرنے پر دو افسران کو سخت سزا سنا دی

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

بیجنگ(آن لائن)چین میں کرونا وائرس کا شکار والد کو قرنطینہ میں لے جانے کے باعث گھر میں اکیلا رہ جانے والا معذور بچہ حکومتی لاپروائی کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ وسطی صوبے ہوبئی میں 16 سالہ معذور بچہ یان شینگ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔ یان شینگ کا والد اس کی دیکھ بھال کرنے والا واحد شخص تھا۔

ایک ہفتہ قبل اس کے والد اور بھائی میں کورنا وائرس کی تصدیق ہوئی جس پر حکام نے دونوں کو زبردستی کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے اسپتال میں (قرنطینہ) بند کردیا۔اس کے نتیجے میں یان شینگ گھر میں تنہا رہ گیا اور کوئی اس کی دیکھ بھال کرنے والا اور کھلانے پلانے والا نہ رہا جس کے نتیجے میں ایک ہفتے بعد وہ موت کے منہ میں چلاگیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس ایک ہفتے کے دوران وہ صرف دو بار کچھ کھاسکا۔چینی حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کرنے پر دو افسران کو برطرف کردیا ہے جن میں علاقے کی مقامی کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری اور میئر شامل ہیں۔ چین میں اس واقعے کی خبر انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی اور شہریوں نے شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کیا۔یان شینگ کی موت سے قبل اس کے والد نے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر بچے کے لیے مدد کی اپیل بھی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا بیٹا خوراک اور پانی کے بغیر ہے۔واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس سے 361 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 17 ہزار سے زائد متاثر ہیں جنہیں قرنطینہ یعنی دوسروں سے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…