جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارتی نوجوان فوج میں بھرتی سے کترانے لگے ،افسران کی شدید کمی ، نئے آ رمی چیف نے بھی اعترا ف کرلیا

datetime 14  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارت کے نئے آرمی چیف نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی فوج کو افسران کی کمی کا سامنا ہے۔ بھارتی بحری اور فضائی افواج میں بھی افسران کی کمی ہے تاہم بّری فوج میں افسران کی کمی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج موکند نرونے نے کہا ہے انڈین فوج میں افسران کی کمی اب بھی برقرار ہے۔

بھارتی فوج میں اس وقت تقریباً 7400 افسران کی کمی ہے یعنی انڈین فوج میں لیفٹیننٹ یا اس سے اوپر کے عہدوں کے لیے جتنے افسران کی ضرورت ہے وہ موجود نہیں۔بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ انڈیا کی بحری اور فضائی افواج میں بھی افسران کی کمی ہے تاہم بّری فوج میں افسران کی کمی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتی حکومت کے متعدد اقدامات کے باوجود بھارتی نوجوان فوج میں شمولیت کی رغبت نہیں رکھتے، بھارتی فوج گزشتہ 4 سال سے مختلف ریاستوں میں بھرتی کیمپس قائم کر رہی ہے جہاں عوام کو فوج میں مہیا سہولیات اور تنخواہوں میں اضافے سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے اس کے باوجود کوئی خاص کامیابی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق قابلیت اور صلاحیت رکھنے والے افراد فوج میں بھرتی ہی نہیں ہونا چاہتے۔ ادھر سوشل میڈیا پر جنرل منوج کے اس بیان پر بہت بات ہو رہی ہے۔ کئی سابق فوجی افسران نے ان کے اس بیان کو سراہا ہے۔اگست 2018میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ انڈین وزارت دفاع کے مطابق یکم جنوری 2018 تک انڈین فوج کے پاس 42ہزار سے زیادہ افسران تھے جبکہ 7298 افسران کی کمی تھی۔اس کے ایک سال بعدیہ تعداد بڑھ کر 7399 ہو گئی۔

یعنی انڈین فوج میں لیفٹیننٹ یا اس سے اوپر کے عہدوں کے لیے جتنے افسران کی ضرورت ہے ان میں 100 افسران کی مزید کمی ہوگئی۔انڈیا کی بحری اور فضائی افواج میں بھی افسران کی کمی ہے۔ تاہم بّری فوج میں افسران کی کمی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔انڈین فوج میں افسر بننے کے لیے دیے جانے والے امتحان میں ناکام رہے افراد بتاتے ہیں کہ جب ایس ایس بی یعنی سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے تو درخواست گزاروں کا حوصلہ قائم رکھنے کے لیے بورڈ کے افراد انھیں بتاتے ہیں کہ امیتابھ بچن، راہل ڈراوڈ اور انڈیا کے سابق صدر عبدالکلام نے بھی یہ امتحان دیا تھا۔

لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے، اس لیے دل چھوٹا نہ کریں۔ایس ایس بی امتحان دینے والے ہر شخص کے اکیڈیمک ریکارڈ کے علاوہ اس کی لکھنے کی صلاحیت، بحث کے طریقے، ٹیم میں کام کرنے کی لیاقت، دلائل کے استعمال اور فیصلہ کرنے کی اہلیت کو بھی پرکھا جاتا ہے۔بورڈ کے مطابق ہر شخص کو آفس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی خوبیوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔انڈین فوج کے ریٹائرڈ افسرمیجر ڈی پی سنگھ نے فوجی سربراہ کے بیان کے بعد ٹویٹ کیا کہ ’ایس ایس بی میں بیشتر افراد اس لیے فیل ہو جاتے ہیں کہ ان میں احساسِ ذمہ داری کی کمی ہوتی ہے۔‘تو کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ انڈین فوج کے لیے قابل افراد کی انڈیا میں کمی ہو گئی ہے یا وجہ کوئی اور ہے؟



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…