امریکہ ایران کشیدگی دور کرانے کیلئے فرانس کی کوششیں کامیاب،ایرانی وزیر خارجہ کی جی-7 سربراہی اجلاس میں ڈرامائی شرکت ،حیرت انگیز پیش رفت‎

  اتوار‬‮ 25 اگست‬‮ 2019  |  22:43

تہران(آ ن لائن)ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی ڈیڈلاک کو توڑنے کے لیے غیر متوقع اور ڈرامائی انداز میں جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس کے جنوبی شہر بیارٹز پہنچ گئے۔ فرانسیسی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جواد ظریف کی شرکت سے متعلق پہلے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم اس اقدام کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جی-7 سربراہی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ کی براہ


راست ملاقات متوقع نہیں ہے لیکن دونوں رہنماو?ں کی ایک جگہ موجودگی سے کشیدگی میں کمی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ‘جواد ظریف فرانس اور ایران کے صدر کے درمیان ہونے والے حالیہ اقدامات پر مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے بیارٹز پہنچ گئے ہیں ’۔ دوسری جانب فرانس کے صدر میکرون کے دفتر کی جانب سے جواد ظریف کی ا?مد کی تصدیق کی گئی لیکن واضح کیا کہ امریکی صدر سے مذاکرات طے نہیں ہیں۔امریکا کے سیکریٹری خزانہ اسٹیون منیوچن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ‘اگر ایران ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ شرائط عائد نہیں کریں گے’۔خیال رہے کہ فرانسیسی صدر میکرون نے جی-7 سربراہی اجلاس کے پیش نظر جواد ظریف سے پیرس میں ملاقاتیں کی تھیں اور امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی کرتے رہے ہیں۔فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ میکرون نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ رین اور بھارت کی تیل کی فروخت سمیت ایران کو متعدد معاملات پر چھوٹ دی جائے یا برا?مدات کے حوالے سے نیا معاہدہ کیا جائے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھا اور ایران پر معاشی پابندیاں بھی عائد کردی تھیں۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں امریکا کے علاوہ روس، چین، فرانس اور جرمنی بھی شامل تھے اور ان ممالک نے معاہدے کو جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

موضوعات:

loading...