منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

2018 میں جنگ ،تنازعات ،مصائب کی وجہ سے کتنے افراد بے گھر ہوئے ؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

datetime 20  جون‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ گذشہ برس جنگ، تنازعات اور مصائب کے باعث 7 کروڑ 80 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔میڈیا رپورٹ کیمطابق انسانی بحران نے نبرد آزما ہونے کیلئے عالمی یکجہتی سے متعلق

اقوامِ متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ اعداد و شمار سامنے آئے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ فلپو گرینڈی نے جنگ اور تنازعات کو اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم امن قائم رکھنے میں تقریباً ناکام ہوچکے ہیں۔خیال رہے کہ 7 کروڑ سے زائد پناہ گزینوں میں سے تقریباً 57 فیصد افراد تنازعات کا شکار ممالک مثلاً افغانستان، میانمار، صومالیہ، سوڈان اور شام سے تعلق رکھتے ہیں۔رپورٹ، جسے بدھ کو جاری کیا گیا، میں دئیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً 70 سال کے عرصے کے دوران سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ فلپو گرینڈی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ اندازے ’محدود‘ ہیں کیوں کہ دنیا میں بہت سے پناہ گزین ایسے ہیں جن کا شمار نہیں کیا گیا۔شمار نہ کیے جانے والے مہاجرین کی وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ افراد ہیں جو جان بچا کر بھاگے اس وجہ سے ان کے لیے اپنے ملک سے ہی دستاویزات حاصل کرنا نہایت مشکل ہیں۔مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث ہزاروں اور سیکڑوں افراد اپنی جانوں پر کھیل کر بحیرہ روم سے گزر کر یونان اور روم پہنچے جس کے باعث یورپ میں جنم لینے والے نام نہاد بحران کی وضاحت کرتے ہوئے یو این این سی آر کے سربراہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ کھلے دروازوں کی پالیسی کی انتہائی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال تھوڑی بہت اسی طرح ہے جس طرح یورپ میں سال 2015 کے دوران ایک کے بعد ایک سرحد بند ہونے لگی۔ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ ہم بہت زیادہ کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن یہ میرا کام ہے کہ ان ممالک سے درخواست کروں کی اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…