جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جرمنی کا پاکستان سمیت دس ممالک کومحفوظ ملک قرار دینے کا فیصلہ

datetime 11  مارچ‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برلن(این این آئی)وفاقی جرمن حکومت پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدریوں میں اضافہ کرنے کے لیے پاکستان سمیت دس مزید ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہاکہ جرمن حکومت دس مزید ممالک کومحفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان، بھارت، جیارجیا، آرمینیا، ا لجزائر، مراکش، تیونس، گیمبیا، آئیوری کوسٹ اور مالدووا کو شامل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔جرمنی کی وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتوں نے مخلوط حکومت کے لیے تیار کردہ معاہدے میں شمالی افریقی ممالک الجزائر، مراکش اور تیونس کو پہلے ہی محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اسی معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ایسے ممالک کو بھی نشاندہی کے بعد محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جن سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے۔جرمنی نے یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت مشرقی یورپی اور متعدد افریقی ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی نے 32 ممالک کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے معاہدے کر رکھے ہیں کہ وہ اپنے اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کریں گے۔ علاوہ ازیں یورپی یونین نے بھی پاکستان سمیت 13 ممالک کے ساتھ پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی واپسی کے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔محفوظ ملک قرار دیے جانے کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں اور درخواستیں مسترد ہونے کی صورت میں ان جرمنی سے ملک بدریوں میں تیزی آ جاتی ہے۔ گزشتہ برس ہی مراکش، الجزائر اور تیونس سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی وطن واپسی کا عمل آسان بنانے کے لیے ان ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کیے گئے تھے جس کے بعد جرمنی سے شمالی افریقی ممالک واپس بھیج دیے جانے والے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی

تعداد سن 2015 کے مقابلے میں چودہ گنا زیادہ رہی تھی۔گزشتہ ماہ صوبہ باویریا میں مہاجرین کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے بتایا تھا دسمبر 2018 میں ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جرائم پیشہ تھے اور انہیں قید سے ہی

نکال کر پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل تک پاکستانیوں کی ملک بدری کے لیے عام طور پر سفری دستاویزات کی موجودگی لازمی تھی۔ اسی تناظر میں امدادی تنظیم جرمنی میں مقیم پناہ کے مسترد درخواست گزار پاکستانیوں کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ملک بدریوں سے بچنے کے لیے پہلے ہی اپنے وکلا سے مشاورت کر لیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…