ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اب مردوں کو دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی یا والدہ سے نہیں بلکہ کس خاتون سے اجازت لینا ہو گی؟ حیران کن اعلان کردیاگیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کوالالمپور(نیوز ڈیسک)ملائیشیاء میں دوسری شادی کی اجازت کا فیصلہ کرنے والی خاتون جج مقررکردی گئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملائیشیا میں ہائی کورٹ کی پہلی خواتین ججز میں سے ایک نے کہاکہ مسلم اکثریتی ملک میں ان کا کردار انھیں خواتین کو تحفظ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔جج نینی شْشیدہ روزانہ کی بنیاد پر پانچ مقدموں کی سماعت کرتی ہیں اور ہفتے بھر

میں وہ زیادہ سے زیادہ 80 مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں۔جج شْشیدہ مالی مقدمات سے لے کر خلوت تک کے تمام مسائل پر فیصلے دیتی ہیں۔ یہاں خلوت کا مطلب تنہائی میں دو غیر شادی شدہ مسلم نوجوانوں (مرد عورت) کا جنسی طور پر خودسپردگی کے عالم میں پکڑے جانا ہے۔لیکن جج شْشیدہ کا اختصاص بچوں کی تحویل اور ایک سے زیادہ شادیوں کے معاملے میں ہے۔ اسلام میں ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور یہ ملائیشیا میں جائز ہے۔جج شْشیدہ نے کہاکہ دوسری شادی کی اجازت دینے سے قبل وہ بہت سے عوامل اور عناصر پر غور کرتی ہیں۔انھوں نے وضاحت کی کہ ہر معاملہ مختلف اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ آپ اسلامی قانون کو عمومی نہیں کہہ سکتے کہ یہ مردوں کی طرفداری کرتا ہے اور خواتین کے ساتھ ناانصافی۔ میں اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہتی ہوں۔انہوں نے کہاکہ میں سب کی بات سننا چاہتی ہوں نہ کہ صرف مرد کی۔ میں خاتون سے یہ جاننے کے لیے لازمی طور پر بات کرتی ہوں کہ آیا وہ اس انتظام سے متفق ہیں یا نہیں۔ ان کا رضامند ہونا اہم ہے اور اگر ہم اس کے برعکس کوئی علامت پاتے ہیں تو ہم دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔انھوں نے مزید کہاکہ میں خود ایک عورت ہوں اور میں جانتی ہوں کہ زیادہ تر خواتین ایسا پسند نہیں کرتیں۔ لیکن اسلام میں اس کی اجازت ہے اور ملائیشیا کی ہماری عدالت نے اس پر سخت قوانین بنا رکھے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…