جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جامعہ الازہر کے ترجمان میگزین میں ایسی تصاویر شائع ہو گئیں جس نے اسلامی دنیا میں ہنگامہ کھڑا کردیا،غم و غصے کی لہر دوڑ گئی

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

قاہرہ(آن لائن )مصر کی سب سے بڑی اور معتبر دینی درس گاہ ’جامعہ الازھر‘ کے ترجمان جریدے ’صوت الازھر‘ کے سرورق پر حال ہی میں شائع ہونے والی خواتین کی غیرحجاب تصاویر نے ملک کے عوامی اور مذہبی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق جامعہ الازھر نے یہ کہہ کر ان تصاویر کی اشاعت کا دفاع کیا ہے کہ ایسا جامعہ کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب

کی خواتین کی ہراسانی کیخلاف جاری بیان کی حمایت میں کیا گیا ہے جب کہ مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ جامعہ الازھر ضرورت سے زیادہ ’لبرلزم‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔خیال رہے کہ جامعہ الازھر کے ترجمان میگزین ’صوت الازھر‘ کے سروق پر حال ہی میں 30 خواتین کی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔ ان میں سماجی کارکنان، انسانی حقوق کی کارکنوں، ہراسانی کے خلاف کام کرنے اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والی معتبر خواتین کی تصایر شائع کی گئی تھیں۔ان میں سے بعض تصاویر میں خواتین کے سرکے بال ننگے ہیں اور بعض نے حجاب پہن رکھا ہے۔جریدے کیادارتی نوٹ میں ’امام السند‘ کے الفاظ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ تصاویر ادارے کے سربراہ الشیخ الازھر کے اس بیان کی حمایت میں شائع کی گئی ہیں جس میں انہوں نے ملک میں خواتین کی جنسی ہراسانی کی مذمت کی تھی۔’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے اس معاملے کا اپنی طور پر کھوج لگایا تو پتا چلا کہ جب سے جریدے کی ادارت صحافی احمد الصاوی کو سپرد کی گئی ہے جریدے کا ’انداز‘ تبدیل ہوگیا ہے۔ اس کے سروق اور اندرونی صفحات پر تصاویر پہلے سے مختلف انداز میں شائع ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل جریدہ مصر کی خواتین وزیروں کی تصاویر اس لیے شائع نہیں کرتا تھا کہ وہ غیر محجب ہوتی تھیں مگر اب یہ پالیسی تبدیل ہوگئی ہے۔

جریدے کے چیف ایڈیٹر احمد الصاوی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی غیرمحجب تصاویر کی اشاعت جامع الازھر کے سربراہ کے خواتین کی جنسی ہراسانی کے خلاف جاری کردہ ایک بیان کی حمایت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ الازھر کے بیان میں خواتین کے کسی مخصوص لباس پر اصرار نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذہب کی بنیاد پر اس کی کوئی تفریق کی گئی ہے۔جامعہ الازھر کے ترجمان جریدے کی طرف سے متنازع تصاویر کی اشاعت پر سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔ بعض شہریوں نے دینی درسگاہ کے جریدے پر غیرمحجب خواتین کی تصویروں کی اشاعت کو جامعہ کی پالیسی پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…