بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی ریاست جھاڑکھنڈمیں ایک ہی خاندان کے چھ افراد نے خود کشی کرلی

datetime 16  جولائی  2018 |

رانچی( انٹرنیشنل ڈیسک)بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے علاقے ہزاری باغ میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد نے ایک ساتھ خود کشی کرلی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ ہزاری باغ میں ایک اپارٹمنٹ سے 70 سالہ مہاویر، ان کی اہلیہ 65 سالہ کرن، ان کے 40 سالہ بیٹے نریش پرساد، ان کی 38 سالہ بہو کریتی اور 10 اور 8 سالہ پوتے امن اور اتن کی لاش ملی ہے۔

پولیس کے مطابق مہاویر کریانے اور خشک میوہ جات کا کاروبار کرتے تھے۔لاشوں کو ہزاری باغ کے ضلعی ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردیا گیا۔پولیس کے مطابق مہاویر، کرن اور کریتی کی لاشیں اپارٹمنٹ میں لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں، نریش نے فلیٹ کی بالکونی سے چھلانگ لگائی تھی اور ان کی لاش اپارٹمنٹ کے داخلی دروازے پر پائی گئی جبکہ دونوں بچوں کا گلا تیز دھاری آلے سے کاٹا گیا تھا۔اس المناک حادثے کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب اپارٹمنٹ کے رہائشیوں نے نریش کی لاش کو داخلی دروازے پر دیکھا جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق مہاویر نے ایک قریبی رشتہ دار کو بتایا کہ اس پر 50 لاکھ روپے کا ادھار ہے جبکہ اسے کاروبار میں بھی نقصان ہورہا ہے۔پولیس نے خاندان کے کاروبار کے حوالے سے دستاویزات حاصل کرتے ہوئے انہیں تحقیقات کا حصہ بنا لیا ہے۔پولیس کو جائے وقوع سے 6 خودکشی کے نوٹس بھی ملے ہیں جن پر ایک جیسی ہینڈ رائٹنگ موجود تھی اور یہ تمام نوٹس پر خاندان کے پر فرد کے دستخط بھی موجود تھے۔دستخظ شدہ خود کشی کے نوٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ مالی تنگیوں کی وجہ سے کیا ہے۔پولیس کا کہنا تھا کہ وہ واقعے کی قتل سمیت تمام تر زاویوں سے تحقیقات کریں گے تاہم خاندان کے پڑوسیوں اور اپارٹمنٹ کمپلیکس میں رہنے والے دیگر افراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے مرنے والے خاندان کے برتاؤ میں کوئی غیر معمولی تبدیلیاں نہیں دیکھی تھیں۔واضح رہے کہ رواں ماہ یکم جولائی کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں گھر سے ایک ہی خاندان کی 11 لاشیں پراسرار حالت میں ملی تھیں جن میں سے 10 لاشوں کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور وہ چھت سے لٹکی ہوئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…