منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فلپائنی صدرکی کویت سے سفارتی کشیدگی کے دوران سخت الفاظ پر معذرت

datetime 4  جون‬‮  2018 |

منیلا (این این آئی)فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے کویت سے حالیہ سفارتی بحران کے دوران میں استعمال کیے گئے اپنے سخت الفاظ پر معذرت کر لی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ڈیوٹرٹ نے ایک تقریر میں کہاکہ میں پہلی مرتبہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے سخت زبان استعمال کی تھی،شاید یہ جذباتی اشتعال کا نتیجہ تھی لیکن میں اب اس پر معذرت کرتا ہوں ۔ ان کا اشارہ کویت سے معذرت کی جانب تھا۔

انھوں نے جنوبی کوریا میں مقیم فلپائنی تارکینِ وطن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو زبان استعمال کی ،اس پر معذرت خواہ ہوں ۔آپ ( کویت) نے میرے ملک کے مسائل کے حل کے لیے جس ردعمل کا اظہار کیا،اس سے پوری طرح مطمئن ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میں اظہار تشکر کے لیے کویت کا دورہ کروں گا اور کویتی حکومت کا ہمیں سمجھنے ، ہم پر اعتماد کرنے اور عملی طور پر ہمارے تمام مطالبات کو تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کروں گا ۔صدر ڈیوٹرٹ نے کویت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ فلپائنی ورکروں کو ہفتہ وار چھٹی دی جائے ،رات کو سات گھنٹے کی نیند پوری کرنے دی جائے اور انھیں اپنے پاسپورٹس اور موبائل فونز پاس رکھنے کی اجازت دی جائے۔ان کے پاسپورٹس اور فونز عام طور پر ان کے کویتی آجر ضبط کر لیتے تھے۔فلپائنی حکام کے مطابق کویت نے صدر ڈیوٹرٹ کے یہ تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے اور ا س ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان ایک سمجھوتا طے پا گیا تھا۔اس کے تحت فلپائنی خادماؤں کو اپنے سیل فون اور پاسپورٹس بعض شرائط کے ساتھ پاس رکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔اس کے بعد فلپائن نے روزگار کے سلسلے میں کویت جانے کے خواہاں اپنے ورکروں پر عاید پابندی ختم کردی تھی۔واضح رہے کہ فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے جنوری میں اپنے شہریوں کو کویت میں بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی اور انھوں نے یہ فیصلہ کویت میں فلپائنی تارکین وطن سے مبینہ ناروا سلوک کی

اطلاعات اور ایک گھریلو ملازمہ کے ایک گھر کے فریزر میں مردہ حالت میں پائے جانے کے واقعے کے بعد کیا تھا۔تب صدر ڈیوٹرٹ نے یہ سنگین الزام عاید کیا تھا کہ عرب آجر فلپائنی ملازماؤں کی عصمت ریزی کرتے ہیں ۔ان سے اکیس ،کیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور انھیں بچا کھچا کھانا دیا جاتا ہے۔فلپائنی گھریلو ملازمہ کی موت کے واقعے اور صدر روڈریگو کے تند وتیز بیانات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…