جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری زمین پر مجموعی پانی کا کل وزن کتنا ہے اور خشکی کا کیا وزن ہے؟ سائنسدانوں نے پتہ چلانے کیلئے ایسی سیٹلائٹ خلا میں بھیج دی جوانسانی بال کی موٹائی کے دسویں حصے تک کی درست پیمائش کر سکتی ہے

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

نیویارک(این این ا)زمین پر موجود پانی کے مجموعی وزن کا اندازہ لگانے کے لیے امریکہ اور جرمنی کا مشترکہ مشن خلا میں روانہ ہو گیا ہے۔ خلا میں بھیجا گیا گریس سیٹلائٹس اْس خلائی جہاز کی جگہ لے گا جس نے گذشتہ سال کام کرنا بند کر دیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پہلے مشن کی طرح یہ سیٹلائٹس بھی زمین کے گرد چکر لگائیں گی اور کمیت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کششِ ثقل میں ہونے معمولی تبدیلی کا پتہ لگانے کی کوشش کریں گی۔

اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آیا زیادہ بارشوں اور برف پگھلنے سے زمین پر پانی کی مقدار میں اضافہ تو نہیں ہوا۔یہ سیٹلائٹ سپیس ایکس راکٹ کی مدد سے امریکی ریاست کیلفورنیا سے خلا میں روانہ کی گئیں۔گریس مشن نے پہلے 2002 سے 2017 تک کام کیا اور اس کے دوران اْس نے کئی اہم معلومات جمع کیں۔ اسی لیے یہ ناسا کی اہم ترجیح تھی کہ وہ اس مشن کو جاری رکھے۔گریس مشن کے بعد شروع ہونے والے دوسرے مشن میں کئی یورپی ماہرین نے بھی اپنے مشورے دیے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ ایئر بس کی فیکٹری میں تیار کی گئی ہیں۔پہلی سیٹیلائٹ زمین کے غیرہموار کششِ ثقل میں گھومتی رہے گی جب کہ دوسری اس سے 220 کلومیٹر پیچھے سفر کرتے ہوئے پہلی سیٹیلائٹ کی مدار میں ایک ملی میٹر کے ہزارویں حصے کی برابر تبدیلیوں پر بھی نظر رکھے گی۔گریس کے پراجیکٹ مینجر نے برطانوی ٹی وی کو بتایا کہ یہ انسانی بال کی موٹائی کا دسواں حصے تک درست پیمائش کر سکتی ہے۔گریس مشن زمین کے پانی کی گردش میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو محسوس کر سکے گا۔ پانی کی گردش میں بارشوں کے ذریعے سمندروں سے پانی کی زمینی علاقوں میں منتقلی شامل ہے۔گریس کے ذریعے قطبین پر موجود برف کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر سال انٹارکٹیکا میں 120 ارب ٹن برف کم ہو رہی ہے جب کہ گرین لینڈ سے 280 ارب ٹن برف کم ہو رہی ہے۔ قطبین پر برف کم ہونے سے سطحِ سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ اس مشن سے برف کی کمیت میں تغیر کا سراغ لگانے کے بعد اْس میں ہونے نقصان کا پتہ لگایا جائے گا اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ اس میں کچھ تیزی آئی ہے یا نہیں۔سابقہ مشن میں تبدیلی کا پتہ لگانے کے لیے مائیکرو ویو رینجنگ آلات استعمال کیے گئے تھے۔ نئے سیٹلائٹ میں بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے لیکن اب اس میں لیزر سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔اس منصوبے کی مجموعی لاگت 52 کروڑ ڈالر ہے اور یہ پانچ سال تک کام کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…