جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی، افغانستان اور بھارت کے ارمان خاک میں مل گئے ، معیشت متاثر ہو نے کا خدشہ ،کتنا بڑا نقصان اُٹھانا پڑے گا؟ چونکا دینے والے انکشافات 

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین نے کہاہے کہ امریکا کی ایرانی جوہری ڈیل سے دستبرداری کے نتیجے میں افغان اقتصادیات کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اْس امریکی اسٹریٹیجی کو بھی متاثر کرے گا جو افغان معیشت کے لیے ٹرمپ نے مرتب کر رکھی ہے۔اپنی طویل ترین جنگ کو اختتام تک لانے کے لیے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی ہے کہ امریکی فوج کے مکمل انخلا سے قبل افغانستان کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جائے تاکہ اس جنگ زدہ ملک کو مزید اقتصادی بیساکھیوں کی ضرورت نہ رہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق تجزیہ کاروں کے خیال میں ایرانی جوہری ڈیل سے دستبرداری کے بعد پابندیوں کے نفاذ سے افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔اس تناظر میں سب سے اہم ایران کی چابہار بندرگاہ کا منصوبہ ہے۔ چابہار پورٹ کمپلیکس بھارتی سرمایہ کاری سے تعمیر کیا جانے والا تجارتی منصوبہ ہے اور امریکا کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ سے یہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ اس ایرانی بندرگاہ کو افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بین الاقوامی تجارت کا ایک کوریڈور قرار دیا جا رہا ہے۔ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ چابہار بندرگاہ کی تعمیر سے افغانستان کی تجارت کے لیے ایک ایسا راستہ کھل جائے گا، جس کے ذریعے وہ لاکھوں ڈالر کی تجارت دوسرے ملکوں سے شروع کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کابل حکومت پاکستان پر اپنا تجارتی انحصار بھی کم کر سکے گی۔امریکی صدر کے فیصلے سے چابہار پر جاری سرگرمیاں یقینی طور پر محدود ہو کر رہ جائیں گی اور مالی فوائد حاصل کرنے کے سبھی پروگرام دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ امریکی پابندیوں کے نفاذ سے بینکاری کا نظام بھی متاثر ہو گا اور سرمایہ کار مختلف منصوبوں کو جاری رکھنے سے قاصر ہوں گے۔ایک بھارتی سفارت کار کے مطابق امریکی صدر کے فیصلے سے اب چابہار منصوبے کی شرائط کو ازسر نو مرتب کرنا ہو گا۔ اس اہم تجارتی و اقتصادی منصوبے میں شامل کئی غیر ملکی کمپنیاں شش و پنج میں مبتلا ہیں اور اس باعث کئی منصوبوں کی تکمیل ادھوری رہنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…