جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارتی عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ گئی مودی کے اقدام نے پورے ملک میں ہلچل مچادی

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی(سی پی پی) انڈیا کی مرکزی حکومت نے اس ہفتے سپریم کورٹ میں دو ججوں کی تقرری کے لیے کولیجیم کے ذریعے بھیجے گئے دو ناموں میں سے صرف ایک کی منظوری دی جبکہ دوسرا نام کولیجیم کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ ا س پر نظر ثانی کرے۔حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر تقرری کے لیے جسٹس کے ایم جوزف موزوں نہیں ہیں کیوں کہ سینیارٹی میں کئی اور جج ان سے آگے ہیں۔

اور یہ کہ عدالت عظمی میں ان کی ریاست کی نمائندگی متوازن ہے۔جسٹس کے ایم جوزف کا نام کولیجیم نے ججوں کی تقرری کے لیے اپنے مسلمہ ضابطوں کے تحت ایک قابل جج کے طور پر بھیجا تھا۔ تقرری کے لیے دو ناموں کی سفارش جنوری میں بھیجی گئی تھی۔ حکومت ان سفارشات کو کے لر تین مہینے بیٹھی رہی اور جب منظوری دی تو صرف ایک ہی نام جج کی تقرری کے لیے منظور کیا۔حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے جسٹس کے ایم جوزف کا نام اس لیے منظور نہیں کیا کیونکہ جب وہ اترا کھنڈ کے چیف جسٹس تھے تو انھوں نے ریاست میں مودی حکومت کے ذریعے لگائے گئے صدر راج کو غیر آئینی قرار دے کر کانگریس کی حکومت کو بحال کرنے حکم دیا تھا جبکہ حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔ماہرین قانون اور سبکدوش ججوں کا خیال ہے کہ ججوں کی تقرری کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی کولیجیم کی سفارشات حتمی ہیں اور حکومت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے لیکن کئی ججوں کے نام پر حکومت کو کچھ اعتراضات ہو سکتے ہیں اور وہ کولیجیم میں اپنے تحفظات پیش کر سکتی ہے۔ لیکن ناموں کو رد کرنا عدلیہ کی آزادی کے سلسلے میں کئی سوالات پیدا کر رہا ہے۔ کئی ماہرین قانون اور ججوں نے رائے دی ہے کہ چیف جسٹس کو اس معاملے میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔،ججز کی تقرری کے سوال پر حکومت اور کولیجیم میں یہ ٹکرا کافی عرصے سے چل رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت 31 ججوں کی جگہیں ہیں جن میں اس وقت 24 جج ہیں۔ سات جگہیں خالی پڑی ہیں۔ اس برس کے آخر تک مزید پانچ جج سبکدوش ہو جائیں گے۔ ملک کی ہائی کورٹس میں 400 سے زیادہ ججوں کی جگہیں خالی پڑی ہیں۔ یہ صورت حال ان حالات میں ہے جب مقدمات کی سماعت اور فیصلے کی مدت طویل ہوتی جا رہی ہے۔ملک کی ذیلی عدالتوں میں کروڑوں مقدمات التوا میں پڑے ہو ئے ہیں۔

مقدمات برسوں تک چلتے رہتے ہیں۔ انصاف کا عمل عام آدمی کی رسائی سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔قانونی ماہرین کا خیال ہے ججوں کی تقرری سے لے کر عدالتوں کے طریق کار تک ہر پہلو میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کی عدالتوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ۔ عدلیہ ابھی تک اپنی خود مختاری اور آزادی کا پوری طاقت اور سختی کے ساتھ دفاع کرتی آئی ہے۔عدلیہ ملک کے ان چند اداروں میں سے ایک ہے جن پر لوگوں کا اب بھی پورا اعتبار ہے۔ اس کی آزادی اور غیر جانبداری کے تحفظ کی ذمے داری صرف عدلیہ کی ہی نہیں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی بھی ہے۔ ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ ایک فعال اور متحرک جمہوریت کی ضامن ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…