اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں نیپالی خادمہ کو کئی سال تنخواہ نہ ملی، بالآخر حکومت نے تنخواہیں دلوائیں تو اس خاتون نے اس رقم کا کیا کیا؟جان کر آپ دنگ رہ جائینگے

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)2008میں ایک نیپالی خاتون جس کا نام  گنگنا مایا ہے گھریلو خادمہ  کے طور پر سعودی عرب لائی گئی تھی۔شروع شروع میں تو اس کا کفیل اسے تھوڑی بہت تنخوہ دیتا رہا لیکن پھر بالکل ہی کچھ دینا بند کر دیا۔ اس نے گنگنا مایا کا فون بھی چھین لیا اور10 سال کی ملازمت کے دوران اسے ایک بار بھی گھر نہیں جانے دیا۔ حال ہی میں جب کفیل اس کے پاسپورٹ کی تجدید کے لئے اسے نیپالی قونصل خانے لے کر گیا تو

ایک اہلکار نے حیرت کے ساتھ خاتون سے پوچھا کہ وہ گزشتہ دس سال کے دوران ایک بار بھی نیپال نہیں گئی اور وجہ جاننا چاہی۔ اس موقع پر گنگنا مایا پھوٹ پھوٹ کر روپڑی اور اپنی حالت زار اس اہلکار کے سامنے بیان کر دی۔اس مظلوم خادمہ پر ہونے والے ظلم کے متعلق جان کر نیپالی قونصل خانہ حرکت میں آ گیا اور اس کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ قونصل خانے کی کوششوں سے ہی اس کے کفیل نے روکی ہوئی تمام اجرت بھی ادا کر دی۔ یہ رقم ملتے ہی گنگنا مایا نے بتایا کہ اس کی ہمیشہ یہ خواہش رہی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ سے کچھ خیرات کرے لہٰذا وہ سب سے پہلے اپنی دو ماہ کی تنخواہ بطور خیرات کسی ضرورت مند کو دینا چاہتی ہے۔ اس خاتون کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر اس کی مدد کرنے والوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔لیکن ابھی اس خاتون کی مشکلات کم نہیں ہوئی تھیں ۔نیپال میں اس کا والد اور خاوند اس کی راہ تکتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ زلزلے میں اس کا گھر بھی تباہ ہو چکا ہے اور اب ایک بے سہارا بیٹی اس کی منتطر ہے۔ باہمت خاتون کا کہنا تھا کہ وہ نیپال جا کر اپنا گھر دوبارہ بنائے گی اور اپنی بیٹی کی شادی کریگی۔واضح رہے کہ نیپال سے کثیر تعداد میں خواتین خادمائیں سعودی عرب آکر کام کر رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…