بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

شام کی فورسز نے درندگی کی تمام حدیں پار کردیں،زبردست بمباری سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں،ترک صدر کے صبر کا پیمانہ لبریز،اہم قدم اٹھا لیا

datetime 8  مارچ‬‮  2018 |

دمشق،استنبول،ماسکو(آن لائن،سی پی پی)شامی علاقہ مشرقی غوطہ میں شامی فورسز کی جانب سے بھر پور انداز میں بمباری بد ستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں مزید 45 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 850 تک جا پہنچی ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق الغوطہ میں شامی فورسز کی جانب سے مزید زبردست قسم کی بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں 45افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔غوطہ کا50 فی صد سے زائد حصہ باغیوں

سے چھڑایا جاچکا ہے،حکومت کے حامی ملیشیا کے مزید ارکان علاقے میں پہنچ گئے ہیں،شام میں30 دن کی جنگ بندی کی ناکامی پر سلامتی کونسل کا بند کمرا اجلاس ہوا۔اجلاس کے بعد کونسل کے صدر ہالینڈکے سفیر کیرل وین اوسٹیروم نے کہا کہ شام میں لڑائی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیاگیا، کونسل نے جنگ بندی کی قرارداد پر عمل کا مطالبہ کیا ہے۔شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندے ڈی مستورا نے بھی اجلاس کو بریف کیا، انہوں نے تشدد کے خاتمے اور باغیوں کے انخلا کیلیے روس سے معاہدہ کرانے کی پیش کش کی۔کونسل ارکان نے اس تجویز کی حمایت کی، روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کچھ باغی محفوظ راستے کی پیش کش قبول کرنے کو تیار ہیں، تاہم باغیوں نے اس کی تردید کی ہے۔دریں اثنا ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات میں مشرقی الغوطہ میں درپیش انسانی المیے سمیت شام کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ترک صدارتی ذرائع سے موصول معلومات کے مطابق دونوں رہنماؤں کی بات چیت میں مشرقی الغوطہ میں درپیش انسانی المیے سمیت شام کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کی ر و سے مشرقی الغوطہ میں فائر بندی کے مکمل اطلاق

کے لئے خاص طور پر ترکی، روس اور ایران کے مشترکہ کوششوں کے نہایت اہمیت کا حامل ہونے پر زور دیا۔بات چیت میں کہا گیا کہ مشرقی الغوطہ میں انسانی امداد پہنچا کر در پیش المیے کا فوری طور پر خاتمہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔صدر اردوان نے عفرین میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ترکی کی طرف سے جاری آپریشن کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا اور دو طرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔دونوں رہنماوں نے آئندہ مہینے استنبول میں

ترکی، روس اور ایران کی شرکت سے متوقع سربراہی اجلاس کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔اد ھرر وس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ طیارے پر حملہ نہیں ہوا حادثہ کی تحقیقات کاآغاز کر دیا گیا ہے، طیارے میں موجود تمام افراد روسی فوجی تھے اور ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچ سکا۔روس کی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق روس کااینٹونووا۔26 کارگو طیارہ تھا جو شام کی ہمئیم ائیر بیس کے قریب گِر کر تباہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 33 مسافر اور عملے کے 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا اور حادثے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کروا دیا گیا ہے۔طیارے میں موجود تمام افراد روسی فوجی تھے اور ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچ سکا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…