جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

ترک سرحدی فورسزکاشام سے ہجرت کرکے آنیوالوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک،ہیومین رائٹس واچ نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

انقرہ (این این آئی)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے الزام لگایا ہے کہ ترک سرحدی محافظوں نے شام سے فرار ہو کر ترکی کا رخ کرنے والے مہاجرین پر فائرنگ کی ہے ادھر ترک حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہاکہ بے گھر ہونے والے یہ مہاجرین محفوظ مقام کی تلاش میں ترک سرحد کے قریبی علاقوں کی جانب روانہ تھے کہ اس دوران ترک فوج نے اپن پر فائرنگ کر دی۔ اس ادارے نے سولہ شامی مہاجرین سے گفتگو کی

جن میں سے تیرہ افراد نے ترک فوج کی جانب سے کی گئی فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شامی حدود کے اندر موجود ان مہاجرین میں سے دس افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطیٰ کے لیے علاقائی نائب ڈائریکٹر لاما فقیہہ نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عفرین اور ادلب میں ترک فوجی کارروائیوں کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تحفظ کی تلاش میں ترک سرحد کا رخ کرنے والے ان مہاجرین کو روکنے کے لیے ترک فوج تشدد اور فائرنگ سے کام لے رہی ہے۔انسانی حقوق کے اس عالمی ادارے کی خاتون اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ انقرہ نے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ تعداد میں شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور انہیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں تاہم یہ بھی کہا، ’’لیکن ترکی کے مہاجرین کو پناہ دینے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ترک سرحدی محافظوں کو پناہ کی تلاش میں سرحدوں پر آنے والے مزید تارکین وطن کا تحفظ یقینی بنانے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ادارے نے ترک صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی فوج کو سرحدی گزرگاہوں پرطاقت کے ہلاکت خیز استعمال سے روکنے کے لیے ہدایات جاری کریں۔ترکی میں صحافیوں نے

صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم قالِن سے اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ حکومت نے شامی خانہ جنگی کے آغاز ہی سے مہاجرین کے لیے ’کھلے دروازے کی پالیسی‘ اختیار کر رکھی ہے۔ترک حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے شامی مہاجرین پر فائرنگ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے شامی مہاجرین کے لیے کھلے دروازے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے اور 2011 میں شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے لے کر اب تک 3.5 ملین سے زائد شامی شہری ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔تاہم شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ترک سرحد بدستور بند ہے اور سوائے ہنگامی حالات کے، کسی مہاجر کو سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…