جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عرب کفیل نے اپنی غیر ملکی ملازمہ کو زندگی کا سب سے بڑا تحفہ دے دیا، وہ کام کر دیا جو کوئی اپنوں کے لیے بھی نہیں کرتا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں ایک کفیل نے اپنی ملازمہ کو گھر کا تحفہ دے دیا، تفصیلات کے مطابق اکثر سننے میں آتا ہے عرب ممالک میں غیر ملکیوں کے ساتھ رویہ مناسب نہیں رکھا جاتا اور بدسلوکی کی جاتی ہے اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کے ایک کفیل نے فلپائن کی اپنی ملازمہ کے ساتھ انتہائی اچھا برتاؤ کیا۔ خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی خاتون کفیل نے اپنی فلپائنی ملازمہ

ڈینا ٹینفائر سیلو کی خدمت گزاری سے خوش ہو کر اسے ایک شاندار گھر دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایک مہنگا پلاٹ بھی خرید لیا گیا ہے اور جلد ہی گھر کی تعمیر بھی شروع ہو جائے گی۔ 45 سالہ اس فلپائنی ملازمہ کو اس کی خاتون کفیل ملیسا میک پائک نے اکتوبر 2017ء میں رقم دی تھی کہ وہ اپنے ملک فلپائن میں اپنی پسندیدہ جگہ پر پلاٹ حاصل کر سکے۔ اب فلپائن میں پلاٹ خرید لیا گیا ہے اور کفیل ملیسا کے خرچ پر ہی ڈینا کے گھر کی تعمیر ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق ڈینا نے کہا کہ جب اس کی کفیل ملیسا کو پتہ چلا کہ ڈینا اپنے گھر والوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے تمام رقم خرچ کر دیتی ہے اور بچت نہیں کر پاتی جس پر ملیسا نے اسے گھر کا تحفہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ڈینا نے بتایا کہ ان کے لیے یہ تحفہ ایسی خوشگوار حیرت کا باعث بنا کہ جسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ اس ماہ کے آخر میں فلپائن جا رہی ہے تاکہ وہاں جا کر اپنے گھر کی تعمیر کا آغاز کر سکے۔ واضح رہے کہ 1988 میں میں ڈینا نے ملیسا کے گھر ملازمت شروع کی اور ملیسا کے دو بیٹوں سعید اور سیف کی دیکھ کرتی رہی، وہ دو سال یہاں نوکری کرنے کے بعد چلی گئی تھی مگر ملیسا نے اسے دوبارہ ڈھونڈ کر ملازمت پر رکھ لیا، اس وقت سے ڈینا اس کے گھر ملازمت کر رہی ہے۔ عرب ممالک میں غیر ملکیوں کے ساتھ رویہ مناسب نہیں رکھا جاتا اور بدسلوکی کی جاتی ہے اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کے ایک کفیل نے فلپائن کی اپنی ملازمہ کے ساتھ انتہائی اچھا برتاؤ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…