اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

امریکہ پاکستان کشیدگی ، امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر کرنے سے منع کر دیا گیا، امریکی حکومت نے اہم ہدایات جاری کر دیں

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو پاکستان کے سفر سے پرہیز کریں اور اگر وہاں ہوں تو خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزادکشمیر نہ جائیں کیونکہ ان کیلئے وہاں خطرہ ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں امریکی شہریوں کو پاکستان جانے کے خطرات سے آگاہ کیا کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے وہاں جانے کے فیصلے پر ازسرنو غور کریں۔

ویب سائٹ پر چھپنے والے پیغام میں کہا گیا کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا)میں دہشت گردی کی وجہ سے سفر نہ کریں۔اسی طرح پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دہشت گردی اور ممکنہ مسلح جنگ کے خطرے کے باعث سفر سے اجتناب کیا جائے ٗدہشتگرد گروہ پاکستان میں حملوں کے منصوبے بناتے رہتے ہیں ٗ دہشت گرد کسی ہلکی سی وارننگ یا پھر اس کے بھی بغیر حملے کر سکتے ہیں اور ان کا نشانہ سیاحتی مقام، مواصلاتی ذرائع، مارکیٹ ٗشاپنگ مال، سرکاری تنصیبات، ہوائی اڈے، یونیورسٹیاں، سکول، ہسپتال، عبادت گاہیں اور مقامی حکومت دفاتر ہو سکتا ہے۔ویب سائٹ پر متنبہ کیا گیا کہ گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان میں کم از کم 40 دہشت گرد حملے ہو چکے جن میں 225 سے زیادہ افراد جاں بحق اور 475کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر حملے بلوچستان، کے پی کے، اور فاٹا میں ہوئے ہیں۔ ویب سائٹ پر ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا گیا ہے کہ پہلے بڑے پیمانے پر ہونے والے حملے میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔امریکی شہریوں کیلئے شائع کیے گئے پیغام میں وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حالات کے پیشِ نظر امریکی حکومت کے پاس اپنے شہریوں کو ہنگامی سروس پہنچانے کی صلاحیت محدود ہے۔ پیغام میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کے اہلکاروں کے پاکستان میں سفر پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور امریکی

حکومت کے اہلکاروں کے سفارتی تنصیبات سے باہر جانے پر بھی مقامی اور سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر، جو کہ اچانک بدل سکتے ہیں، کسی وقت بھی اضافی پابندی عائد کر دی جائے گی۔دہشت گردوں نے ماضی میں بھی امریکی سفارتکاروں اور سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور شواہد بتاتے ہیں کہ وہ ایسا کرتے رہیں گے۔وزارتِ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر دئیے گئے پیغام میں لکھا کہ بھارت اور پاکستان کی سرحد پر دونوں طرف ایک بڑی فوج موجود ہے۔ ان افراد کے لیے جو پاکستان اور بھارت کے شہری نہیں ہیں واحد بھارت۔ پاکستان سرحدی کراسنگ صوبہ پنجاب میں واہگہ، پاکستان جبکہ اٹاری، انڈیا میں ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر پر نکلنے سے پہلے سرحدی کراسنگ کی حالت کے متعلق معلوم کر لیں۔ انڈیا داخل ہونے کیلئے انڈین ویزہ چاہیے اور سرحد پر ویزہ کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…