پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

بڑے اور مہنگے ائیر کنڈیشنڈ کی چھٹی، ایسا اے سی ایجاد جسے آپ اپنی جیب میں بھی ڈال سکتے ہیں،حیران کن خصوصیات

datetime 31  دسمبر‬‮  2017 |

سان فرانسسکو(سی پی پی )یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے انجینئروں نے ایک چھوٹا سا کولر بنایا ہے جسے آپ جیبی ایئرکنڈیشنر بھی کہہ سکتے ہیں۔غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق اتوار کو ہفت روزہ جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیقات کے مطابق اسے تھرمو الیکٹرک کولر کا نام دیا گیا ہے جو بہت کم توانائی استعمال کرتا ہے اور ماحول دوست بھی ہے۔ اس کے برخلاف بڑے بڑے ایئرکنڈیشنر ٹھنڈک کو ممکن بنانے

والی گیسیں استعمال کرتے ہیں جنہیں چلانے کیلیے ایک جانب بہت بجلی درکار ہوتی ہے تو دوسری جانب وہ فضا میں خطرناک گیسیں خارج کرکے ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔تاہم یہ نیا آلہ بالکل مختلف اصولوں پر کام کرتا ہے۔جیبی ایئرکنڈیشنر الیکٹروکیلورک اثر کے تحت کام کرتا ہے یعنی جب اس میں بجلی گزاری جاتی ہے تو الیکٹرک فیلڈ خاص مٹیریل سے گرمی کو نکال باہر کرتی ہے۔ اس کیلیے سائنس دانوں نے ایک خاص قسم کا پولیمر استعمال کیا اوراسے گرمی خارج کرنے (ہیٹ سورس) اور گرمی جذب کرنے والے (ہیٹ سِنک) مٹیریل کے درمیان موجود کھلی جگہ رکھا گیا۔جب پولیمر ہیٹ سنک کو چھوتا ہے تو اس دوران ایک الیکٹرک فیلڈ بھی دوڑائی جاتی ہے۔ اس فیلڈ سے پولیمر کے مالیکیول ایک قطار میں آجاتے ہیں اور گرمی کو ہیٹ سنک کے جانب دھکیلتے ہیں۔اگلے مرحلے میں پولیمر دوبارہ حرارت جذب کرتا ہے اور اسے ہیٹ سنک تک پہنچاتا ہے، یوں یہ چکر بار بار چلتا رہتا ہے۔ایک جانب تو یہ کولر بہت سستا ہے تو دوسری جانب یہ ماحول دوست بھی ہے۔اس طرح بڑے بڑے ایئرکنڈیشنگ سسٹمز کی ضرورت نہیں رہے گی اور ان کی جگہ انفرادی کولنگ سسٹم رائج ہوسکیں گے۔ دوسری جانب اس سے بجلی کی حیرت انگیز بچت ممکن ہوسکے گی۔ابتدائی تجربے کے بعد ماہرین نے اسے ایک درجے آگے تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے لچک دار مادے سے یہ کولر بنایا ہے اور اسے سام سنگ گیلیکسی ایس فور پر استعمال کیا ہے۔ حیرت

انگیز طور پر اس کی بیٹری 8 درجے سینٹی گریڈ تک ٹھنڈی ہوگئی۔یہ روایتی ایئرکنڈیشنر کی جگہ تو نہیں لے سکے گا لیکن مستقبل میں پہنے جانے والے آلات (ویئرایبلز) کو ٹھنڈا رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکے گا۔ اس کے علاوہ اس کے استعمال سے ٹھنڈا رکھنے والے کپڑے اور ملبوسات بھی بنائے جاسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…