پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

امن منصوبہ تیاری کے مرحلے میں ہے ، فلسطینیوں کو راضی کر دے گا ، ٹرمپ

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی) امریکی صدر نے جب فلسطینی صدر محمود عباس کو اس بات سے آگاہ کیا کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ساتھ ہی انہوں نے محمود عباس کو یہ بھی باور کرایا کہ ان کے پاس ایک امن منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو راضی کرنا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کی اس بات کا مقصد بیت المقدس کے حوالے سے اپنے فیصلے کے اثرات پر روک لگانا ہے جو اس مسئلے پر طویل عرصے سے قائم امریکی پالیسی کی مخالفت کرتا ہے۔ٹرمپ نے بیت المقدس سے متعلق اپنے حیران کن اعلان سے ایک روز قبل عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور اس دوران وہائٹ ہاؤس کے مشیروں کی اْن کوششوں پر روشنی ڈالی جو وہ ایک امن منصوبہ وضع کرنے کے واسطے کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ 2018 کی پہلی ششماہی کے دوران پیش کیا جائے گا۔ تاہم ٹرمپ کے اعلان کے بعد مشرق وسطی پر چھائے غم و غصے کے سبب اب اس پیش رفت کا ممکن ہونا مشکل نظر آ رہا ہے۔امریکی ذمے داران کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کْشنر کی قیادت میں امریکی صدر کی ٹیم ایک ایسا منصوبہ وضع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گی جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے بنیاد ثابت ہو۔ اس امید کے ساتھ کہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی رابطوں میں تعطل زیادہ عرصے نہ رہے۔تاہم ایک امریکی ذمے دار کا کہناتھا کہ اگر فلسطینی اب بھی یہ کہتے رہے کہ وہ بات چیت ہر گز نہیں کریں گے تو ایسی صورت میں ہم بھی منصوبہ پیش نہیں کریں گے۔ذمے دار کا کہنا تھا کہ عباس کے ساتھ گفتگو میں ٹرمپ کا اصرار رہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جانبین کے درمیان اس

معاملے یا دیگر معاملات کے حوالے سے مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔ایک امریکی ذمے دار کا کہنا تھا کہ فلسطینی اس حد تک کمزور پوزیشن میں ہیں کہ ان کے سامنے آخر میں امریکا کے زیر قیادت امن کوششوں میں اپنی شرکت کا سلسلہ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو گا۔امریکی ذمے

دار کے مطابق ٹرمپ کے معاونین فلسطینیوں کو قائل کرنے کے لیے یہ حجت پیش کریں گے کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد امریکی صدر زیادہ قوت اور زور کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو سے رعائتیں اور دست برداری کے مطالبے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…