بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ہمسایہ ملک میں واٹس ایپ اورٹیلی گرام کی سروس بند

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی )افغان حکام نے ملک میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کی سماجی میڈیا کی سہولیات عارضی طور پر بند کردی ہیں، حکومتی اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اقدام سکیورٹی کے باعث کیا گیا،دوسری جانب متنازع اقدام کے نتیجے میں افغان حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع گیا ،اس اقدام کو غیر قانونی قدم اور

اظہار آزادی پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں حکام نے ملک میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کی سماجی میڈیا کی سہولیات عارضی طور پر بند کردی ہیں۔ ایک اہل کار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے، اِس کا باعث سکیورٹی تشویش بیان کی ہے۔افغان ٹیلی مواصلات کے رابطے کے ادارے (اے ٹی آر اے) نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ سماجی میڈیا کی اِن سروسز کو 20 روز کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ریاست کے سکیورٹی کے اداروں کی جانب سے کی گئی درخواست کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔اہل کار، جنھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ اس ضمن میں ہفتے کو باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ٹیلی مواصلاتی ادارے نے ٹیلی کوم کو حکم جاری کیا ہے کہ یکم نومبر سے یہ سہولیات روک دی جائیں۔ یہ بات افغان ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی سرکاری ہدایات کی ایک نقل میں کہی گئی ہے۔حالیہ دِنوں، سماجی میڈیا کے صارفین نے اِن دو سروسز کے حوالے سے تکنیکی مسائل کی شکایت کی ہے۔اِس متنازع اقدام کے نتیجے میں، افغان حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع گیا ہے، جسے غیر قانونی قدم اور اظہار آزادی پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔نکتہ چینی کے بعد جمعے کو ٹیلی مواصلات پر ضابطہ کار ادارے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندش کا مقصد ایک نئے قسم کی ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنا ہے، تاکہ صارفین کی شکایات

کو نمٹایا جا سکے۔ضابطے کا دفاع کرتے ہوئے، ادارے نے کہا ہے کہ وائٹس ایپ اور ٹیلی گرام محض آواز اور پیغام رسانی کی سہولیات فراہم کرتے ہیں، اور اِن کی عارضی معطلی سے افغانوں کے شہری حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ وزارت نے مزید کہا ہے کہ حکومت آزادی اظہار کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔ٹوئٹر پر ایک بیان میں افغان صحافیوں اور سرگرم کارکنوں نے اقدام کو مسترد کیا ہے۔حبیب خان طوطا خیل نے ٹوئٹر پر پیغام

تحریر کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت کی سنسرشپ کا آغاز ہے۔ اگر اس کی فوری طور پر مزاحمت نہ کی گئی تو بعید نہیں کہ حکومت بہت جلد فیس بک اور ٹوئٹر کو بھی بند کردے۔ایک افغان صحافی نے کہا ہے کہ حکومت سکیورٹی کی فراہمی میں ناکام ہوئی ہے، اب وہ پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز پر بندش لگا کر اپنی نالائقی کو چھپانا چاہتی ہے۔ مطلق العنانیت؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…