پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ہنگری اور پولینڈ کامہاجرین مخالف پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان

datetime 23  ستمبر‬‮  2017 |

وارسا/بڈاپسٹ(این این آئی)پولینڈ اور ہنگری کے رہنماؤں نے یورپی یونین کے مطالبات اور پابندیوں کی دھمکیوں کو رد کرتے ہوئے مہاجرین سے متعلق سخت پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے یونان اور اٹلی میں موجود ہزاروں مہاجرین کو رکن ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ طے کیا گیا تھا، تاہم پولینڈ اور ہنگری نے اس

منصوبے کے تحت مہاجرین کو اپنے اپنے ہاں پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے ایگزیکٹیو کمیشن نے ان دونوں ممالک کے خلاف کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے وارسا میں اپنی پولستانی ہم منصب بیاٹا سیڈلو کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس حقیقت کو پہچانیں کہ نہ ہنگری اور نہ ہی پولینڈ ’مہاجرین کے ممالک‘ بننے کو تیار ہیں۔اوبان نے کہاکہ میں نے پولستانی وزیراعظم کو بتایاکہ میں اس صورت حال کو حوصلہ افزا نہیں سمجھتا، کیوں کہ بجائے اس کے کہ ہماری بات کی تعظیم کریں، تارکین وطن لینے والے ملک چاہتے ہیں کہ ہم بھی ان جیسے بن جائیں۔ وہ ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ہم بھی اپنی پہچان ختم کر کے تارکین وطن کو جگہ دینے والے ملک بنیں۔پولستانی وزیراعظم نے بھی اوربان کے نکتہ ہائے نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کے امور کے حوالے سے خدشات کے تناظر میں مہاجرین کے حوالے سے سخت پالیسیاں درست ہیں۔پولینڈ کی وزیراعظم سیڈلو نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا کہ وہ عدالتی نظام میں حکومتی اصلاحات پر بھی تنقید سیاسی وجوہات کی بنا پر کر رہی ہے۔واضح رہے کہ مہاجرین کو قبول نہ کرنے کے اعلان پر

یورپی کمیشن نے پولینڈ اور ہنگری کو دھمکی دی ہے کہ یونین ان دونوں ممالک کے بہ طور رکن ریاست اختیارات کو محدود کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…