پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایک سال قبل کی ٹویٹ، مس ترکی سے چند گھنٹوں بعد اعزاز واپس لے لیا گیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2017 |

انقرہ(این این آئی)مس ترکی 2017 کی فاتح سے اعزاز واپس لے لیا گیا اور اس کی وجہ ماضی میں کی گئی ان کی ایک ٹویٹ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق18 سالہ ایسن نے ترکی میں ناکام بغاوت کے ایک سال ہونے پر ایک ٹویٹ کی تھی جس میں انھوں نے بغاوت میں ‘شہیدوں کے بہنے والے خون’ کو اپنے حیض سے تشبیہ دی تھی۔مس ترکی کے منتظمین کا کہنا تھاکہ ایسن کی یہ ٹویٹ

ناقابل قبول ہے اور تصدیق کی کہ چند گھنٹے قبل مس ترکی کی فاتح سے یہ اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔ایسن نے انسٹاگرم پر ایک پیغام میں کہا کہ اس ٹویٹ میں سیاست نہیں تھی۔ایسا نے یہ ٹویٹ ناکام بغاوت کے ایک سال ہونے پر کی تھی۔ اس ناکام بغاوت میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔انھوں نے اس ٹویٹ میں لکھا تھا ‘جولائی 15 کو ایک سال ہونے پر میرے آج پیریڈ شروع ہو گئے ہیں۔ میں ہمارے شہیدوں کے لہو بہنے کا ایک سال اپنے خون بہنے سے منا رہی ہوں۔’یاد رہے کہ ترکی کے صدر طیب اردوگان بغاوت میں ہلاک ہونے والے افراد کو ‘شہید’ پکارتے ہیں۔مقابلہ حسن کے منتظمین کا کہنا تھاکہ یہ ٹویٹ استنبول میں ہونے والی تقریب کے بعد سامنے آئی۔ اس ٹویٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک اجلاس میں اعزاز واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ایسن نے انسٹاگرام پر ایک پیغام میں کہا کہ میں کہنا چاہتی ہوں کہ 18 سالہ لڑکی ہونے کے ناطے ٹویٹ کرتے وقت میرے سیاسی مقاصد نہیں تھے۔انھوں نے مزید لکھا میری پرورش میں اپنے ملک اور قوم کی عزت کرنا ہے۔ایسن نے اعزاز واپس لیے جانے کے بعد دوسرے نمبر پر آئی اسلی سمن کو فاتح قرار دیا گیا۔ سمن مس ورلڈ میں ترکی کی نمائندگی کرنے چین جائیں گی۔ایسن پہلی مس ترکی نہیں ہیں جو

سیاسی تنازع میں پھنسی ہیں۔ ان سے قبل 2016 میں مس ترکی میرو کو صدر اردوگان کی بے عزتی کرنے کے جرم میں 14 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ انھوں نے صدر کے بارے میں ایک مزاحیہ نظم سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…